روس اور یوکرین

کیف کی ڈونیٹسک میں روسی دفاع کو توڑنے کی سرتوڑ کوشش

چیچن افواج کے اہلکار یوکرینی افواج کے حملے روکنے کے لیے بیلگوروڈ میں تعینات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یوکرین میں روسی فوجی آپریشن آج جمعہ 16 جون کو بھی جاری ہے اور روسی فوج یوکرین کی زمینوں پر مزید کنٹرول بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی دوران کیف کی افواج مغرب کی فوجی مدد سے اپنی زمینوں کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ڈونیٹسک کے قائم مقام صدر ڈینس پوشیلن نے انکشاف کیا ہے کہ آرٹیوموفسک میں روسی دفاعی دستوں کو یوکرین کی فوج کی طرف سے غیر معمولی دراندازی کی کوششوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یوکرین کی فوج روسی افواج کی پیش رفت کو روکنے اور اسے جارحانہ کارروائیوں سے روکنے کے لیے بڑی کارروائیاں کر رہی ہے۔

پوشیلن نے یوکرین کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے روسی جنگی یونٹوں کے ساتھ آرتیوموفسک سمتوں میں تعاون کے لیے ڈونیٹسک یونٹوں کی تیاری کی بھی تصدیق کی ہے۔

دوسری طرف چیچن ریپبلک کے صدر رمضان قادروف نے کہا ہے کہ چیچنیا کے جنگجوؤں کو یوکرین کی سرحد سے متصل روسی بیلگوروڈ کے علاقے میں تعینات کردیا گیا ہے تاکہ وہ یوکرینی تخریب کار گروپوں کے حملوں کو روک سکیں۔

قادروف کے مطابق "زاباد-اخمات" بٹالین کے جنگجوؤں کو سرحدی گاؤں نیخو تیوکا اور گریوو ۔ رون کے علاقے میں ایک چوکی کے قریب تعینات کردیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں مئی کے دوران یوکرین نے سرحد پار سے حملے کیے تھے۔ قادروف نے یوکرین کی سرحد سے ملحق علاقوں کے رہائشیوں کو بھی یقین دلایا کہ وہ بے چینی کا شکار نہ ہوں۔ انہوں نے کہا بیلگوروڈ پر جو بھی حملہ کرے گا اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

واضح رہے یوکرین کی فوج نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ اس نے اپنی جارحیت کے آغاز کے بعد سے 100 مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اس کی افواج نے یوکرین میں ڈرون بنانے والی تنصیبات پر انتہائی درست اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں سے بمباری کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

روسی وزارت دفاع کے ترجمان نے یہ بھی بتایا ہے کہ روسی فضائی دفاع نے امریکی ساختہ "HIMARS" سسٹم کا استعمال کرتے ہوئے داغے گئے پانچ میزائلوں کو روک دیا اور 25 ڈرونز کو مار گرایا ہے۔

ادھر یوکرین کے نائب وزیر دفاع غانا مالیار نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یوکرین کی فوج روسی افواج کی سخت مزاحمت کے باوجود ملک کے جنوبی محاذ پر پیش رفت کر رہی ہے۔ یوکرینی افواج نے گزشتہ 10 روز میں باخموت کے علاقے میں 3 کلومیٹر سے زیادہ پیش قدمی کرلی ہے۔ جنوب میں بھی یوکرین کی فوج بتدریج لیکن مستحکم حالت میں پیش رفت کر رہی ہے۔

یوکرینی فوج کے ایک عہدیدار اولیکسی گروموف نے پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ مجموعی طور پر یوکرینی فوج نے ایک ہفتے کی لڑائی میں 100 مربع کلومیٹر سے زیادہ پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔ مشرقی ڈونیٹسک کے جنوب مغرب میں یوکرینی فوج مالا توکماچکا قصبے کے قریب تقریباً تین کلومیٹر اور ویلیکا نووسیلکا کے جنوب میں 7 کلومیٹر تک آگے بڑھ چکے ہیں۔

وال سٹریٹ جرنل نے جمعرات کو رپورٹ کیا کہ جاپان روس کی افواج پر یوکرین کے جوابی حملے کے ذخیرے کو بڑھانے کے لیے امریکہ کو توپ خانے کے گولے فراہم کرنے کے بارے میں بات چیت کر رہا ہے۔ اخبار نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ٹوکیو واشنگٹن کو 155 ملی میٹر توپ خانے کے گولے فراہم کرنے پر غور کر رہا ہے۔

ناروے کی حکومت نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اوسلو اور کوپن ہیگن نے یوکرین کو 9 ہزار اضافی توپ خانے کے گولے فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ یاد رہے 3 اپریل کو ڈنمارک کی وزارت دفاع نے ناروے کی وزارت دفاع کے ساتھ یوکرین کو 155 ملی میٹر توپ کے 8 ہزار گولے فراہم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں