بائیڈن انتظامیہ ترکیہ کو ایف 16 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کو تیار، مگرکانگریس حائل؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جمہوریہ ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ وہ امریکا سے ایف 16 لڑاکا طیارے خرید کرنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ پُرامید ہیں۔

انھوں نے بدھ کے روز ولنیئس میں نیٹو کے سربراہ اجلاس کے بعد کہا ہے کہ ’’ میں امید کرتا ہوں کہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے‘‘۔

انھوں نے منگل کے روز ولنیئس میں امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات کی تھی اور ان سے دفاعی اور اقتصادی ترجیحات پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ دونوں رہ نماؤں نے دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا اور مشترکہ مفادات کے علاقائی امور پر بھی بات چیت کی جس میں یوکرین کے لیے پائیدار حمایت اوربحیرہ ایجیئن میں تحفظ واستحکام ایسے امور شامل تھے۔

ملاقات کے بعد صدر ایردوآن نے کہا تھا کہ ’’ترکیہ امریکا کے ساتھ ایک نیا عمل شروع کر رہا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ تزویراتی میکانزم کے حصے کے طور پر امریکا کے ساتھ سربراہان مملکت کی سطح پر مشاورت کا وقت آگیا ہے اور میں اس ملاقات کو اس سمت میں پہلا قدم سمجھتا ہوں‘‘۔

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے اس ملاقات کے حوالے سے کہا کہ بائیڈن کئی ماہ سے واضح اور دو ٹوک موقف اختیار کر چکے ہیں کہ وہ ترکیہ کو ایف 16 طیاروں کی منتقلی کی حمایت کرتے ہیں اور یہ ہمارے قومی مفاد میں ہے۔نیز یہ نیٹو کے بھی مفاد میں ہے کہ ترکی کو یہ صلاحیت حاصل ہو۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ بائیڈن انتظامیہ ترکیہ کو لڑاکا طیاروں کی فروخت کے ساتھ آگے بڑھے گی۔صدر نے گذشتہ چند مہینوں میں اپنے عوامی اور نجی تبصروں میں اس پر کوئی شرط عاید نہیں کی ہے اور وہ کانگریس کی مشاورت سے اس سودے کے ساتھ آگے بڑھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ترکیہ کواربوں ڈالر مالیت کے ایف 16 طیاروں کے معاہدے میں امریکی کانگریس کی مخالفت کا سامنا کرنا ہے۔اس نے انقرہ کے انسانی حقوق کے ریکارڈ اور شام میں متنازع خارجہ پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا ہے، حالانکہ صدر بائیڈن کی انتظامیہ نے ترکیہ کو لڑاکا جیٹ کی فروخت کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں