امریکی شہریوں کو بغیر ویزا اسرائیل داخلے کی اجازت مل گئی

بدھ تک امریکی شہریت رکھنے والے فلسطینی بغیر ویزا کے تل ابیب کے قریب واقع بن گوریون ہوائی اڈے کے ذریعے اسرائیل میں داخل نہیں ہو سکتے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل نے جمعرات سے تمام امریکی شہریوں کو بغیر ویزا کے اپنی سرزمین میں داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔
یہ فیصلہ بدھ کو ہونے والے ویزا فری داخلے کے باہمی معاہدے کے تحت کیا گیا ، اسرائیل کو امید ہے کہ اس اقدام کے بعد کے مرحلے میں اسرائیلی شہری بغیر ویزا کے امریکہ میں داخل ہو سکیں گے۔

وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ "جب اسرائیل کو اس پروگرام میں قبول کر لیا جائے گا، تو کوئی بھی اسرائیلی بغیر ویزے کے امریکہ میں داخل ہو سکے گا"۔

انہوں نے کہا کہ " اسرائیل نے امریکہ میں داخلے کے لیے ویزا فری پروگرام میں شامل ہونے کے لیے اپنی درخواست میں ایک اور اہم قدم اٹھایا ہے۔" نیا اقدام جمعرات سے نافذ العمل ہوگا۔

زمینی کراسنگ جو اردن کو مغربی کنارے سے ملاتی ہے
زمینی کراسنگ جو اردن کو مغربی کنارے سے ملاتی ہے

بیان میں کہا گیا ہے کہ "تمام امریکی، بشمول دوہری امریکی-اسرائیلی شہریت کے حامل اور دوہری شہریت کے حامل فلسطینی( جو مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں مقیم ہیں اور امریکی شہریت رکھتے ہیں) اس اقدام سے مستفید ہوں گے۔"

اس سے قبل فلسطینی ویزا نہ ہونے پر تل ابیب کے قریب واقع بن گوریون ہوائی اڈے کے ذریعے اسرائیل میں داخل نہیں ہو سکتے تھے، جس کی وجہ سے وہ ملحقہ ملک اردن جانے اور وہاں سے زمینی راستے سے فلسطین کی طرف سفر پر مجبور ہوتے۔

امریکہ اس وقت سیاحت یا کام کے مقصد سے مختصر قیام کے لیے 40 ممالک کے شہریوں کو بغیر ویزا کے اپنی سرزمین میں داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے۔ اسرائیل اس پروگرام میں شامل ہونے کے لیے کئی سالوں سے بات چیت کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں، امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے بدھ کے روز کہا کہ "امریکہ 30 ستمبر تک فیصلہ کرے گا کہ آیا اسرائیل ویزا چھوٹ کے پروگرام میں شامل ہو سکتا ہے۔"

اسرائیل کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ امریکہ کے سرکاری دورے پر ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں