سعودی عرب کا تُونس کو 50 کروڑ ڈالر قرض اور گرانٹ دینے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب تُونس کو آسان قرض اور اس کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے گرانٹ کی شکل میں 50 کروڑ ڈالر دے گا۔

یہ بات تُونس میں سعودی عرب کے سفیر عبدالعزیز الصقر نے جمعرات کو العربیہ کو بتائی ہے۔تُونس کو دی جانے والی مالی امداد میں 40 کروڑ ڈالر کا آسان قرض اور 10 کروڑ ڈالر کی گرانٹ شامل ہے۔

ان سمجھوتوں پر سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد عبداللہ الجدعان اور ان کے تُونسی ہم منصب سہام البوغدیری نے دست خط کیے۔

تونس اس وقت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ ایک ارب 90کروڑ ڈالر کے قرض کی تجویز پر بات چیت کر رہا ہے لیکن یہ مذاکرات اکتوبر سے تعطل کا شکار ہیں کیونکہ تونس کے صدر قیس سعید نے اقتصادی ادارے کی قرض کی شرائط کو مسترد کر دیا تھا۔

ایک سینیر سرکاری عہدہ دار نے جون میں کہا تھا کہ تونس آئی ایم ایف کو پیش کرنے کے لیے ایک متبادل تجویز تیارکر رہا ہے۔

صدر قیس سعید نے جون میں پیرس میں ایک اجلاس کے دوران میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیفا کو بتایا تھا کہ شمالی افریقی ملک کو مالی مدد مہیاکرنے کے لیے فنڈ کی شرائط سے خانہ جنگی کو جنم دینے کا خطرہ ہے۔

قیس سعید نے جارجیفا کے ساتھ ملاقات میں اس بات کا اعادہ کیا کہ سب سڈی (زرِتلافی) میں کسی بھی قسم کی کٹوتی، خاص طور پر توانائی اور خوراک پر، ملک پر مضر اثرات مرتب کر سکتی ہے۔انھوں نے 1983 میں تُونس میں ہونے والے مہلک فسادات کا ذکر کیا جب حکومت نے روٹی کی قیمت میں اضافہ کیا تھا۔قرض کے بغیر تُونس کو ادائی کے توازن کے مکمل بحران کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں