ہمارا ملک جمہوری اقدار کے ساتھ کھڑا ہے: ہرزوگ کی امریکہ کو یقین دہانی کی کوشش

فلسطینیوں کے ساتھ امن کے حصول کی گہری خواہش رکھتا ہوں: اسرائیلی صدر کا امریکی کانگریس میں خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ کے دورہ کے دوران اسرائیلی صدر اسحٰق ہرزوگ نے امریکی کانگریس کو اسرائیل میں جمہوریت کی حالت اور تل ابیب اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کی مضبوطی کے بارے میں یقین دلانے کی کوشش کی۔

ہرزوگ نے کانگریس کے سامنے ایک تقریر کی جس کے دوران انہوں نے امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ اور ڈیموکریٹک نمائندوں کے سامنے اسرائیل میں متنازعہ عدالتی اصلاحات کے حوالے سے نیتن یاہو حکومت کے اقدامات کے بارے میں بالواسطہ طور پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسرائیلی عدالتی نظام، مغربی کنارے میں آباد کاری کی توسیع اور دیگر مسائل پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

کانگریس کے مشترکہ اجلاس میں ہرزوگ کی تقریر کے موقع پر ایوان نمائندگان نے ریپبلکن کی قیادت میں ایک قرارداد منظور کی جس میں دو طرفہ منظوری کے ساتھ اسرائیل کی حمایت کی تصدیق کی گئی۔

اسرائیلی صدر ہرزوگ نے اپنی تقریر میں کہا "جناب سپیکر، میں دوستوں کے درمیان تنقید سے غافل نہیں ہوں، اس ایوان کے کچھ معزز اراکین نے بھی تنقید کا اظہار کیا ہے۔ میں تنقید کا احترام کرتا ہوں خاص طور پر دوستوں کی طرف سے۔ اگرچہ اسے قبول کرنا ضروری نہیں ہوتا"

ہرزوگ نے عدالتی اصلاحات پر تنازع کے باوجود اپنے ملک میں جمہوریت کا بھرپور دفاع کیا اور اسرائیل پر تنقید کرنے والوں کو متنبہ کیا کہ وہ یہود دشمنی میں پڑنے کے خطرے سے خبردار ہے۔

کانگریس سے اپنی تقریر میں انہوں نے ایک بار پھر اپنے ملک میں ایک شدید بحث پر بات کی۔ انہوں نے کہا اسرائیل میں جمہوریت کی مضبوطی کو دو ٹوک انداز میں خراج تحسین پیش کیا۔

عدالتی ترامیم کی وجہ سے اسرائیل میں مظاہرے
عدالتی ترامیم کی وجہ سے اسرائیل میں مظاہرے

انہوں نے فلسطینیوں کے ساتھ امن کے حصول کی اپنی گہری خواہش کے متعلق بھی بات کی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے محاذ پر کھڑی ہو۔ اس وقت ایران دونوں ملکوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔

خیال رہے ہرزوگ کے متعلق امریکیوں کی رائے اس حد تک منقسم نہیں ہے جتنا وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے متعلق ہے۔ تاہم اس کے باوجود ان کا دورہ ڈیموکریٹک پارٹی کی صفوں میں کچھ تنازعات کا باعث بن رہا ہے۔

کچھ ڈیموکریٹک نمائندوں نے اسرائیل میں جمہوریت سے "انحراف" اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آبادکاری کی سرگرمیوں کے تسلسل کی مذمت کی ہے۔ بعض نے اسرائیلی صدر کی تقریر کا بائیکاٹ بھی کردیا۔

ہرزوگ کا امریکہ کا یہ دورہ اس وقت کیا جارہا ہے جب اسرائیل میں عدالتی اصلاحات سے متعلق نیتن یاہو حکومت کے منصوبے کی مذمت میں ہزاروں افراد سڑکوں پر ہیں۔

منگل کو ہرزوگ کا استقبال کرنے والے امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی اصلاحات میں جلد بازی نہ کرے اور احتیاط کے ساتھ آگے بڑھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں