اسرائیل کا مغربی صحارا پر مراکش کا حق تسلیم کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی : الجزائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

الجزائر کی حکومت نے کہا کہ الجزائر نے اسرائیل کی طرف سے مراکش کے لیے مغربی صحارا کے علاقے کو تسیلم کرنے کے حوالے سے مراکشی حکومت کے اعلان کا نوٹس لیا ہے۔

الجزائر کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ قابض اسرائیلی اتھارٹی کی جانب سے اٹھایا گیا حالیہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ مراکش کی طرف سے آگے بڑھنے کی پالیسی اور چالبازیوں کے سلسلے کی ایک نئی کڑی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے مغربی صحارا کو مراکش کے حصے کے طور پر تسلیم کرنا بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور صحارا کے معاملے سے متعلق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ضوابط کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدام مراکش اور اسرائیل کی پالیسیوں کی مستقل مزاجی کی تصدیق کر رہا ہے۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ قدم ایک مکروہ معاہدے سے زیادہ کچھ نہیں جو کسی بھی طرح صحرائی اراضی پر قبضے کو جائز نہیں قرار دے سکتا۔

خیال رہے الجزائر علیحدگی پسند ’’پولساریو فرنٹ‘‘ کی حمایت کرتا ہے اور مراکش کے ساتھ اپنے تصادم کے دوران اس تنظیم کی اپنی سرزمین پر میزبانی کرتا ہے۔ یہ چپقلش 1975 میں ہسپانوی استعمار سے مغربی صحارا کی بازیابی کے وقت سے جاری ہے۔

اس تنازع کے پس منظر میں مراکش اور الجزائر کے تعلقات میں حالیہ عرصہ میں شدید تناؤ دیکھا جا رہا ہے ۔ کشیدگی اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ الجزائر نے رباط کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کر دئیے ہیں۔ مراکش نے چند روز قبل ایک بڑی سفارتی پیش رفت کی تھی جب اسرائیل نے مغربی صحارا پر مراکش کی خودمختاری کو تسلیم کر لیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں