سوڈان :دارفور میں راکٹ حملوں میں 16 شہری ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سوڈان (السودان) کے مغربی علاقے دارفور میں متحارب فورسز کے درمیان راکٹ حملوں میں 16 شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

مقامی وکلاء یونین نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ جنوبی دارفور کے ریاستی دارالحکومت نیالامیں ’’فوج اور سریع الحرکت فورسز (آر ایس ایف) کے درمیان راکٹ باری کے تبادلے میں 16 شہری ہلاک ہوئے ہیں‘‘۔ایک شخص ہمسایہ ریاست میں اسنائپر فائر سے ہلاک ہوا ہے۔

پڑوسی ملک تشاد (چاڈ) کے قریب ریاست مغربی دارفور کے دارالحکومت ایل جینینا میں اسنائپرز مبیّنہ طور پر لڑائی شروع ہونے کے بعد سے چھتوں سے رہائشیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اوراس ریاست سے دسیوں ہزار رہائشی سرحد پار نقل مکانی کر چکے ہیں۔

سنہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں پہلے ہی وحشیانہ تنازعات سے تباہ حال وسیع علاقے دارفور میں اپریل کے وسط میں سوڈان کے حریف جرنیلوں کے درمیان لڑائی شروع ہونے کے بعد سے بدترین تشدد دیکھنے میں آیا ہے۔

سوڈان میں متحارب فورسز کے درمیان یہ نئی لڑائی 15 اپریل کو دارالحکومت خرطوم سے شروع ہوئی تھی اور اسی ماہ کے آخر میں دارفور تک پھیل گئی تھی۔ سوڈانی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان کی وفادار فورسز ان کے سابق نائب محمد حمدان دقلو کے زیرکمان نیم فوجی دستوں آر ایس ایف کے خلاف جنگ آزما ہیں۔

آر ایس ایف کے مضبوط گڑھ دارفور میں لڑائی حال ہی میں ایل جینینا میں وحشیانہ جھڑپوں کے بعد نیالا کے ارد گرد مرکوز ہے جہاں اقوام متحدہ نے مظالم کی اطلاع دی تھی۔

خرطوم اور اس کے آس پاس بھی لڑائی جاری ہے۔ مقامی لوگوں نے ہفتے کے روز بتایا کہ فوج نے دارالحکومت کے جنوب میں واقع ریاست الجزیرہ کے شمال میں واقع دیہات پر پہلا فضائی حملہ کیا ہے۔

سوڈان میں بہنے والے دریائے سفید نیل اور نیلا نیل کے دوآبے کی زرخیز زمین میں اب جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے 33 لاکھ افراد میں سے کئی لاکھ افراد عارضی طور پر قیام پذیر ہیں۔اگر لڑائی تک الجزیرہ تک پھیل جاتی تو وہ دوبارہ جانیں بچانے کے لیے راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

ان کی مدد کرنے والے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے کارکنوں کو بھی وہاں سے نکلنا پڑے گا، لیکن وہ اپنے کاموں کو منتقل کرنے میں بہت سے افسرشاہی چیلنجوں سے ڈرتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ متحارب فریقین اب میدان جنگ کو وسیع کرنا چاہتے ہیں۔

انٹرنیشنل کرائسیس گروپ (آئی سی جی) تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ 'جنگ کے ابتدائی دنوں سے ہی خرطوم میں آر ایس ایف کی بالادستی رہی ہے لیکن یہ برتری مزید واضح ہوتا جا رہا ہے۔آئی سی جی نے کہا کہ فوج نے 15 جولائی کو شمالی خرطوم میں ایک بڑی کارروائی کا آغاز کیا تھا ، جس میں پورے مضافاتی علاقوں کو فضائی حملوں کے ذریعے تباہ کردیا گیا تھا لیکن وہ حیرت انگیز طور پر ناکام رہی ہے۔

سریع الحرکت فورسز جنگجوؤں اور ہتھیاروں کی مسلسل ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے دارفوراورخرطوم کے درمیان واقع شاہراہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

دریں اثناء جنرل برہان اور دقلو دونوں کے سعودی عرب میں نمائندے ہیں، جہاں اصولی طور پر جنگ بندی کے مذاکرات ہو رہے ہیں۔لیکن جمعہ کو خرطوم میں حکومت نے ’’جنگ بندی کے بارے میں کسی بھی معلومات‘‘ کی تردید کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں