نیجر کے زیرِحراست صدر محمد بازوم کا طبی معائنہ، حالت تسلی بخش قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

نیجر کے زیرحراست صدر محمد بازوم کا ہفتے کے روز ان کے ڈاکٹر نے طبی معائنہ کیا ہے۔انھیں گذشتہ ماہ ان کے صدارتی محافظوں نے اقتدار سے بے دخل کرکے حراست میں لے لیا تھا۔

ان کے ایک قریبی مصاحب نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ صدر کے ڈاکٹر نے آج ان سے ملاقات کی۔ان کا کہنا تھا کہ معالج صدر بازوم، ان کی اہلیہ اور بیٹے کے لیے کھانا بھی لے کر آئے تھے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ صدر ٹھیک ہیں اور ان کی حالت تسلی بخش ہے۔

26 جولائی کونیجر کی فوج نے اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا اور جمہوری طریقے سے منتخب صدر کو یرغمال بنالیا تھا۔ فوج نے ان کے ساتھ ان کی اہلیہ اور 20 سالہ بیٹے کو بھی حراست میں لے لیا تھا۔ اس کے بعد سے ان کی صحت اور حراست کی صورت حال پر خدشات بڑھ رہے ہیں۔

یورپی یونین اور افریقی یونین نے محمد بازوم کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔ان کے علاوہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک کا کہنا ہے کہ بازوم کی حراست کے حالات غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک کے مترادف ہو سکتے ہیں اور یہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

دریں اثناء امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے نیجر کی فوج کی جانب سے بازوم کے اہل خانہ کی رہائی سے انکار پر مایوسی کا اظہارکیا ہے۔نیجرمیں اقتدار پر قابض فوجی حکام سے صدر بازوم کے بیٹے اور اہلیہ کو جذبہ خیرسگالی کے تحت رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

دوسری جانب ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ اس نے اس ہفتے کے اوائل میں معزول صدر بازوم سے بات کی تھی۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کے مطابق 63 سالہ صدر نے اپنے، اپنی اہلیہ اور بیٹے کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کو 'غیر انسانی اور ظالمانہ' قرار دیا۔

سی این این نے گذشتہ ہفتے خبر دی تھی کہ بازوم کو الگ تھلگ رکھا گیا تھا اور ان کا تختہ الٹنے والے فوجی حکام نے انھیں خشک چاول اور پاستا کھانے پر مجبور کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں