کینیڈین ویب گاہ پر لوگوں کو زہر بیچنے کے الزام کی عالمی تحقیقات کا آغاز

کینتھ لا نامی زہر کے سوداگر پر 88 افراد کو انٹرنیٹ کے ذریعے زہر بیچنے کا الزام ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے مطابق ایک کینیڈین شہری سے زہر لینے کے بعد 88 لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

این سے اے کا کہنا ہے کہ وہ اس کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ ان اموات کا بیچے گئے کیمیکل کے ساتھ براہ راست تعلق ہے لیکن وہ ممکنہ جرم کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

برطانوی پولیس نے بیچنے والوں کا پتا لگانے کے لیے پورے ملک کے کئی سو گھروں کا دورہ کیا ہے۔

کینتھ لا کو مئی میں کینیڈا میں خودکشی میں سہولت دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

57 سال کے کینتھ لا کے بارے میں یہ مانا جاتا ہے کہ وہ اپنی ویب سائٹ پر خودکشی سے متعلق آلات و سامان بیچتے تھے۔

برآمد ہونے والا زہر
برآمد ہونے والا زہر

انھوں نے 40 سے زیادہ ملکوں کے صارفین کو زہریلے کیمیکل بیچے۔

پیل ریجنل پولیس نے بتایا کہ اپریل میں ٹورنٹو میں ایک نوجوان کی اچانک ہلاکت کے بعد انھوں نے تحقیقات کا آغاز کیا۔

کینتھ لا کی گرفتاری کے بعد برطانیہ کی پولیس پورے ملک میں ان لوگوں تک رسائی حاصل کر رہی ہے جنھوں نے اس کیمیکل کا آرڈر دیا۔

این سے اے کے مطابق برطانیہ میں 232 ایسے لوگوں کی نشاندہی کی گئی ہے جنھوں نے دو سال کے عرصے میں کینتھ لا سے خریداری کی۔

ایجنسی کے مطابق ان میں سے 88 افراد بعد میں ہلاک ہو گئے لیکن وہ ہلاکتوں سے ان کا براہ راست تعلق نہیں منسلک کر سکے۔

این سی اے کے ڈیپیوٹی ڈائریکٹر کریگ ٹرنر نے کہا ’ہماری ہمدردیاں مرنے والوں کے لواحقین کے ساتھ ہیں۔ پولیس فورس کے خصوصی تربیت یافتہ افسران ان کی مدد کر رہے ہیں۔‘

’کراؤن پراسیکیوشن سروس کی مشاورت سے این سی اے نے برطانیہ میں ہونے والے ممکنہ جرائم کی تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ آپریشن جاری ہے۔‘

کینتھ لا اس وقت حراست میں ہیں اور اس مہینے ان کی عدالت میں پیشی ہو گی۔

ملکی قانون کے مطابق کسی شخص کو خودکشی کے لیے مشورہ دینے یا مدد کرنے کے نتیجے میں 14 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں