افریقہ میں 3 سالوں میں 7 بغاوتیں! کیا یہ "ڈومینو اثر" ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

افریقی براعظم کو ہلا کر رکھ دینے والی بغاوتوں کے منظر کی روشنی میں بہت سے مبصرین کو خدشہ ہے کہ ان فوجی بغاوتوں کی چنگاری پھیلے گی، اور مزید ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ ان میں سے تازہ ترین واقعہ کل گیبون میں پیش آیا۔

جہاں مغربی ممالک نے قانونی حکام اور جمہوریتوں کو کمزور کرنے کی مذمت کی ہے وہیں واشنگٹن نے سب کو یقین دلایا کہ اس وقت بغاوت کی آگ کے پھیلنے کا کوئی خوف نہیں ہے۔

وائٹ ہاؤس کی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اسٹریٹجک کمیونیکیشن کوآرڈینیٹر جان کربی نے العربیہ/الحدث کو ایک بیان میں کہا کہ "ڈومینو اثر کے وجود کے بارے میں بات کرنا قبل از وقت ہے"، تاہم، انہوں نے گیبون میں فوجی رہنماؤں کے اقدامات کو خطرناک قرار دیا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکی انتظامیہ افریقی براعظم اور پوری دنیا میں جمہوریت کو مضبوط بنانے پر توجہ دے رہی ہے کیونکہ اس کا ماننا ہے کہ لوگوں کے لیے امن اور خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے یہ بہترین طرز حکمرانی ہے۔

وسطی افریقی ریاستوں کی اقتصادی برادری اکوواس نے بھی طاقت کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے آئینی حکومت کی واپسی کا مطالبہ کیا۔

7 فوجی بغاوت

اگرچہ امریکہ کا خیال ہے کہ پے درپے بغاوتوں کے بارے میں کوئی تشویش نہیں ہے، لیکن ایک سرسری جائزہ چونکا دینے والے اعداد و شمار ظاہر کرتا ہے۔

تازہ ترین بغاوت سے پہلے جو کل بدھ کو گیبون میں شروع ہوئی تھی ، اگست 2020 سے، افریقہ نے سات فوجی بغاوتیں دیکھی ہیں۔

گیبونی فوج کے افسران نے ملک میں موجودہ حکومت کے خاتمے کا اعلان کر دیا - ایسوسی ایٹڈ پریس
گیبونی فوج کے افسران نے ملک میں موجودہ حکومت کے خاتمے کا اعلان کر دیا - ایسوسی ایٹڈ پریس

نیجر کی فوج اور بازوم

26 جولائی 2023 کو نیجر میں فوج نے صدر محمد بازوم کی معزولی کا اعلان کیا اور جنرل عبدالرحمن تیانی ملک کے نئے طاقتور بن گئے۔

10 اگست کو، افریقی ممالک کی تنظیم اکوواس نے بحران کے حل کے لیے سفارتی راستے کو ترجیح دیتے ہوئے "آئینی نظم بحال کرنے" کے لیے علاقائی مداخلتی فورس کو فعال کرنے کا اعلان کیا۔

برکینا فاسو : 8 ماہ میں دو بغاوتیں

برکینا فاسو نے محض آٹھ مہینوں میں دو بغاوتیں دیکھی ہیں۔

24 جنوری 2022 کو فوج نے صدر روش مارک کرسچن کابوری کو اقتدار سے ہٹا دیا اور فروری میں لیفٹیننٹ کرنل پال ہینری سنڈاوگو دمیبا کو صدر کے عہدے پر فائز کر دیا گیا۔

30 ستمبر کو، فوج نے دمیبا کو برطرف کر دیا اور کیپٹن ابراہیم ٹراورے کو جولائی 2024 میں ہونے والے صدارتی انتخابات تک عبوری صدر مقرر کر دیا۔


گنی میں بغاوت

گنی میں صدر الفا کوندی کو 5 ستمبر 2021 کو معزول کر دیا گیا تھا۔ 1 اکتوبر کو کرنل مامادی دومبویا کو صدر کے عہدے پر فائز کیا گیا۔

بعد میں فوج نے 2024 کے آخر تک اقتدار منتخب شہریوں کو سونپنے کا وعدہ کیا۔

برکینا فاسو سے
برکینا فاسو سے

مالی میں دو بغاوتیں

مالی میں بھی چند مہینوں میں دو بغاوتیں دیکھنے میں آئیں۔ 18 اگست 2020 کو فوج نے صدر ابراہیم بوبکر کیتا کو معزول کر دیا اور اکتوبر میں ایک عبوری حکومت قائم کی گئی۔

لیکن 24 مئی 2021 کو فوج نے صدر اور وزیر اعظم کو گرفتار کر لیا اور کرنل اسیمی گوئٹا کو جون میں عبوری صدر کے طور پر تعینات کر دیا گیا۔

فوجی کونسل نے فروری 2024 میں ہونے والے انتخابات کے بعد اقتدار عام شہریوں کے حوالے کرنے کا وعدہ کیا۔

سوڈان کی صورت حال

سوڈان میں زیادہ تر مغربی ممالک نے 25 اکتوبر 2021 کو مسلح افواج کی طرف سے اٹھائے گئے غیر معمولی اقدامات اور عبداللہ حمدوک کی سربراہی میں سویلین حکومت کی تحلیل کو جمہوری راستے کے خلاف بغاوت سمجھا۔

سوڈان ابھی تک ایک پیچیدہ بحران سے دوچار ہے، جو اپریل کے وسط میں فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان پرتشدد لڑائی میں تبدیل ہو گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں