لبنانی شیعہ عالم موسیٰ الصدر اب بھی لیبیا کی جیلوں میں ہیں: بیٹی کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لبنان کے معروف شیعہ عالم موسیٰ الصدر کی گمشدگی کو جمعرات کے روز 45 برس مکمل ہوگئے۔ اس موقع پر موسیٰ الصدر کی بیٹی نے شعلی بیانی پر مبنی بیانات دئیے اور دعویٰ کردیا کہ ان کے والد موسیٰ الصدر لیبیا کی جیلوں میں اب بھی زندہ ہیں۔ موسیٰ الصدر کی سب سے چھوٹی بیٹی ملیحہ نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ ان کے والد اور ان کے دو ساتھی لیبیا کی جیلوں میں زندہ ہیں۔

ملیحہ نے کہا کہ ان کے والد کی رہائی نہ ہونے کے ذمہ دار لیبیا کے حکام ہیں۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ وہ ابھی تک زندہ ہیں۔ موسیٰ الصدر کے ملیحہ سے بڑے تین بچے ہیں صدرالدین، حامد، اور حورا۔ دونوں لڑکے ایران میں پیدا ہوئے اور دونوں لڑکیاں لبنان میں پیدا ہوئیں۔

ملیحہ کے بیانات مرحوم کرنل معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام کی طرف سے لبنانی پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بری کو بھیجے گئے ایک سخت الفاظ والے خط کے ساتھ مل کر سامنے آئے ہیں۔ سیف الاسلام نے لبنانی جیلوں میں اپنے بھائی ہنیبل کی 8 سال تک مسلسل نظربندی کے حوالے سے سخت بیانات دئیے۔

لبنانی عدلیہ نے ہنیبل پر الصدر اور ان کے دو ساتھیوں شیخ محمد یعقوب اور صحافی عباس بدر الدین کی قسمت سے متعلق معلومات چھپانے کا الزام لگایا ہے۔ یاد رہے کہ مشہور شیعہ عالم موسیٰ الصدر 1978 میں یعنی 45 سال قبل لیبیا میں لاپتہ ہو گئے تھے۔

موسیٰ الصدر کے اہل خانہ کا خیال ہے کہ وہ اب بھی ایک جیل میں زندہ ہے حالانکہ بہت سے لبنانیوں کا خیال ہے کہ وہ مر چکے ہیں۔ موسیٰ الصدر اگر اس وقت تک زندہ ہوں تو ان کی عمر 94 سال ہوتی۔

2012 میں جب لیبیا کی عبوری کونسل کے سربراہ کے طور پر مصطفیٰ عبدالجلیل نے العربیہ پر سیاسی یادوں کے پروگرام کے ساتھ ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ امام موسی الصدر اور ان کے دو ساتھیوں نے اٹلی کا سفر نہیں کیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ قذافی کے دور میں وزیر انصاف تھے اور ان کے پاس اس کیس کے بارے میں تفصیلات تھیں جو وہ ظاہر نہیں کر سکتے تھے۔ ہم نے جس چیز کو الصدر کی قبر سمجھا ہے لبنانی وفد کی موجودگی میں اس سے ان کے جسم اور کپڑوں کے نمونے نکال کر دئیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لبنانی ٹیم نے اس وقت اجتماعی قبر میں موجود تمام لاشوں کے نمونے لیے تھے۔

ہنیبل  قذافی
ہنیبل قذافی

یاد رہے اس وقت امل موومنٹ نے عبدالجلیل کی باتوں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈی این اے ٹیسٹ سے ثابت ہوا ہے کہ یہ کسی اور شخص کا جسم تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں