اسرائیل سے تعلقات: لیبی وزیر خارجہ کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کی پراسراریت معما بن گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اپنے ٹھکانے کے بارے میں کئی سربستہ رازوں کے ساتھ لیبیا کی برطرف وزیر خارجہ نجلاء المنقوش ابھی تک منظر نامے سے غائب ہیں۔

لیبیا کے کچھ سیاستدانوں نے تصدیق کی کہ وہ ترکی چلی گئی ہیں۔ مگر گذشتہ ہفتے لیبیا کی داخلی سلامتی نے اس بات کی تردید کی تھی کہ انہوں نے ہوائی اڈے کو عبور کیا تھا۔

لیکن جو بات یقینی ہے وہ یہ ہے کہ اس معاملے میں اب بھی کچھ پراسراریت ہے۔

کیا وہ اب بھی وزیر ہیں؟!

اگرچہ روم میں اپنے اسرائیلی ہم منصب ایلی کوہن سے ملاقات کے بعد انہیں

طرابلس میں وزیر اعظم عبدالحمید الدبیبہ نے برطرف کرنے کا فیصلہ جاری کیا تھا، مگر ایکس پلیٹ فارم (سابقہ ​​ٹویٹر) پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ پر وہ اب بھی ایک "وزیر" ہیں۔

جمعرات کی شام ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی وزارتی میٹنگ کے دوران، الدبیبہ نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے کسی بھی امکان کو مسترد کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا: "فلسطین زندہ باد، اور ہمارے تمام دلوں میں فلسطینی کاز زندہ باد۔"

انہوں نے وزیرخارجہ کی کارروائی کو حکومت سے باہر کیے گئے ایک آزادانہ فیصلے سے بھی منسوب کیا۔ اور اس بات پر زور دیا کہ جواب میں سخت اقدامات کیے جائیں گے، لیکن مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ایکس پلیٹ فارم پر نجلاء المنقوش کا اکاؤنٹ (سابقہ ​​ٹوئٹر)
ایکس پلیٹ فارم پر نجلاء المنقوش کا اکاؤنٹ (سابقہ ​​ٹوئٹر)

یاد رہے کہ اس سے قبل دو اعلیٰ سرکاری عہدیداروں نے تصدیق کی تھی کہ وزیر اعظم کو اپنی وزیر خارجہ اور چیف اسرائیلی سفارت کار کے درمیان ہونے والی بات چیت کا پہلے سے علم تھا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق، ایک اہلکار نے بتایا کہ الدبیبہ نے ملاقات کے لیے منظوری دی تھی، جب کہ دوسرے نے تصدیق کی کہ المنقوش نے طرابلس واپسی کے بعد وزیر اعظم کو اس کے بارے میں آگاہ کیا۔

دوسرے اہلکار نے یہ بھی وضاحت کی کہ دبیبہ نے امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے "ابراہیم معاہدے" میں شامل ہونے کے لیے اپنی ابتدائی منظوری دی تھی، لیکن وہ پرتشدد عوامی ردعمل کے بارے میں فکر مند تھے۔

واضح رہے کہ گذشتہ اتوار کو اسرائیلی وزیر خارجہ نے حیران کن انکشاف کیا کہ انہوں نے اور برطرف لیبیائی وزیر نے گزشتہ ہفتے روم میں ایک خصوصی ملاقات کی جو کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ سفارت کاروں کے درمیان پہلی ملاقات تھی۔

اس کے نتیجے میں طرابلس میں شدید عوامی ردعمل سامنے آیا، جہاں دارالحکومت اور ملک کے دیگر شہروں میں مذمتی مظاہرے ہوئے۔

الدبیبہ نے وزیر کو معطل کرنے اور واقعہ کی تحقیقات شروع کرنے کا حکم دیا اور پھر بعد میں اسے برطرف کرنے کے لیے کہا۔

جب کہ اس وقت یہ بتایا گیا تھا کہ وہ اپنی حفاظت کے خوف سے ترکی اور پھر کسی تیسرے ملک میں اس اطلاع کی تصدیق کیے بغیر بھاگ گئی اور اس کا ٹھکانہ ابھی تک معلوم نہیں ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ملک میں 1957 میں جاری کردہ ایک قانون کے مطابق لیبیا میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا اب بھی غیر قانونی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں