اوپیک پلس

سعودی عرب اور روس کی پیداوارکٹوتی سے اختتام سال تک تیل کی رسد میں نمایاں کمی کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور روس کی جانب سے 2023 کے آخر تک تیل کی رسد میں کٹوتی میں توسیع سے چوتھی سہ ماہی کے دوران میں مارکیٹ میں پیداوار میں کمی نمایاں اضافہ ہو جائے گا۔

تیل برآمدکنندگان ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور اس کے اتحادیوں پرمشتمل اوپیک پلس نے مارکیٹ کو مضبوط بنانے کے لیے 2022 میں رسد کو محدود کرنا شروع کیا تھا۔رواں ماہ سعودی عرب اور روس نے تیل کی پیداوار میں جاری 13 لاکھ بیرل یومیہ کی کٹوتی میں 2023 کے آخر تک توسیع کا اعلان کیا ہے جس کے بعد پہلی بار برینٹ آئل بینچ مارک برینٹ کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی۔

ادارے کا کہنا ہے کہ 2023 کے آغاز سے اب تک اوپیک پلس کے ارکان کی جانب سے 25 لاکھ بیرل سے زیادہ پیداوار میں کٹوتی کی تلافی امریکا، برازیل اور ایران سمیت اتحاد سے باہر کے تیل پیداکنندگان کی جانب سے رسد میں اضافے سے کی گئی ہے۔

عالمی توانائی ایجنسی کی تیل کی ماہانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ستمبر کے بعد اوپیک پلس کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے چوتھی سہ ماہی کے دوران میں عالمی مارکیٹ میں رسد میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔

تاہم، ایجنسی کا کہنا ہے کہ اگلے سال کے آغاز میں عدم کٹوتی سے رسد میں ہونے والی کمی توازن کو فاضل میں تبدیل کردے گی۔نیز ذخائر کم سطح پر ہوں گے، جس سے نازک معاشی ماحول میں اتار چڑھاؤ میں ایک اور اضافے کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

افراتفری کی پیشین گوئی

کروناوائرس کے وبائی مرض کے بعد چین میں معاشی سرگرمیوں کی سست بحالی کی وجہ سے وسیع تر معاشی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ نیز یہ کہ امریکا میں شرح سُود بلند رہے گی۔

آئی ای اے کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود دنیا کے سب سے بڑے تیل درآمد کنندہ ملک (چین) میں تیل کی طلب اب تک معاشی مندی سے نمایاں طور پر متاثر نہیں ہوئی ہے۔چین کی صنعتی سرگرمی اور تیل کی طلب میں اچانک کمی کے اثرات عالمی سطح پر پھیلنے کا امکان ہے، جس سے ایشیا، افریقا اور لاطینی امریکا میں ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے لیے زیادہ مشکل ماحول پیدا ہوگا۔

اس سال اورآیندہ سال عالمی طلب اور رسد کے تخمینے پیشین گوئی کرنے والوں پر منحصر ہیں۔آئی ای اے اور اوپیک --- دونوں نے منگل کو جاری کردہ اپنی ماہانہ رپورٹ میں 2023 کے دوران میں چینی طلب کے بارے میں پُرامید ہونے کا اشارہ دیا ہے، جس سے اس سال اور اگلے سال کے لیے ان کی عالمی طلب کے تخمینے میں بڑی حد تک کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

دریں اثناء، امریکی حکومت کی توانائی اطلاعات انتظامیہ (انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن) نے منگل کے روز 2024ء میں عام طور پر طلب کے بارے میں کم اور رسد سے متعلق زیادہ امید افزا اشارے دیے ہیں۔اس نے کھپت میں نمایاں کمی اور غیر اوپیک کی سپلائی میں معمولی اضافے کی پیشین گوئی کی ہے۔

اس صورت حال پرآئل بروکر پی وی ایم کے تامس ورگا کا کہنا ہے:’’افراتفری کی پیشین گوئی والی دنیا کوخوش آمدید‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں