یواے ای:ایک ارب ڈالرمالیت کی کیپٹاگون اسمگل کرنے کی کوشش ناکام؛ 6 مشتبہ افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں حکام نے ایک ارب ڈالر (3.87 ارب درہم) سے زیادہ مالیت کی کیپٹاگون گولیاں اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی ہے اور چھے مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

دبئی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 13 ٹن سے زیادہ ایمفیٹامین پر مبنی نشہ آور گولیاں ضبط کی ہیں۔ کبھی اس کو قانونی دوا سمجھاجاتا تھا لیکن اب بیشتر ممالک میں اس کا استعمال ممنوع ہے۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر داخلہ شیخ سیف بن زاید آل نہیان نے منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی سے متعلق ایکس پرایک ویڈیو جاری کی ہے۔اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مقامی حکام مشتبہ افراد کی نگرانی کر رہے ہیں، ان کا سراغ لگا رہے ہیں اور آخرکار انھیں پکڑنے کے لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔

اماراتی حکام نے اس کارروائی کو آپریشن اسٹارم کا نام دیا ہے۔انھوں نے بڑی مقدار میں منشیات کی اسمگلنگ سے متعلق خفیہ معلومات پر یہ کارروائی کی تھی۔پانچ کنٹینروں میں 651 دروازوں اور 432 آرائشی پینلز میں منشیات کی یہ بھاری مقدار چھپائی گئی تھی۔

حکام نے پہلے مشتبہ شخص کا سراغ لگایا تھا اور پانچ جھنڈے والے کنٹینروں میں سے تین کووصول کرنے کے بعد اسے گرفتار کرلیا تھا۔پھر ٹیموں نے باقی گینگ کو پکڑنے کے لیے ایک صنعتی علاقے میں غیر قانونی شپمنٹ کا تعاقب کیا تھا۔

دوسرے مشتبہ شخص کو دبئی میں گرفتار کیا گیا ہے جبکہ تیسرے شخص کو ایک دوسری امارت سے گرفتار کیا گیا ہے۔وہ بھی ضبط کیے گئے تین کنٹینروں کی شپمنٹ سے منسلک ہے۔

چوتھے اور پانچویں مشتبہ شخص کو منشیات ذخیرہ کرنے والے باقی دو کنٹینرز کا دعویٰ کرنے پر ٹریک کیا گیا اور کسٹمز سے شپمنٹ کلیئر کرنے کے لیے پہنچنے پرانھیں گرفتار کر لیا گیا۔

چھٹے اور آخری مشتبہ شخص کو آخری دو کنٹینرکی شپمنٹس کا سراغ لگانے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا جہاں اس نے شپمنٹ کو ایک گودام میں اتارنے کے لیے قبول کیا تھا۔

سرکاری خبر رساں ادارے وام کی رپورٹ کے مطابق دبئی پولیس کے اہلکاروں نے اس آپریشن کی کامیابی کے بعد دروازوں اور پینلز سے منشیات ہٹانے میں کئی دن لگائے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ کھیپ ایک مال بردار جہاز پر لائی گئی تھی اور اسے دوسرے ملک کے لیے روانہ ہونا تھا۔

عرب ریاستیں طویل عرصے سے ایمفیٹامین جیسی منشیات کے خلاف جنگ لڑرہی ہیں۔منشیات کی ان گولیوں کے بارے میں طویل عرصے سے خیال کیا جاتا ہے کہ یہ شام اور لبنان میں تیار کی جاتی ہیں اور وہاں سے تعلق رکھنے والے اسمگلروں کے ذریعے عرب ممالک میں پھیلائی جا رہی ہے۔

اگرچہ ان دونوں عرب ممالک نے ان دعووں کی واضح طورپرتردید کی ہے، لیکن ایسی اطلاعات ہیں کہ عرب ممالک شام ایسے ملکوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ سرحد پار منشیات کے بحران کو ختم کریں۔

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں حکام باقاعدگی سے منشیات کی اسمگلنگ کے انسداد کے لیے کارروائی کرتے رہتے ہیں۔

گذشتہ سال کے وسط میں دبئی کسٹمز نے بتایا تھا کہ 2022 کے پہلے چارماہ میں اپنی زمینی، سمندری، فضائی اور مسافر بندرگاہوں سے منشیات کی 936 کھیپیں ضبط کی یا کوششیں ناکام بنائی تھیں۔ان میں منشیات کے مواد کی اسمگلنگ کی متعدد کوششیں شامل تھیں ،جیسے ٹرامڈول کی گولیاں ، کیپٹاگون ، افیون ، ہیروئن ، بھنگ کے بیج ، کرسٹل میتھ ، چرس ، اور دیگرممنوعہ اشیاء شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں