سپین میں ایک اخبار نے ایک معذرت پر مبنی ایک لیٹر کا انکشاف کیا ہے جسے ہسپانوی فٹ بال فیڈریشن کے سابق صدر روبیلز نے مشہور اور متنازع بوسہ سکینڈل کے بعد جنرل اسمبلی کے دوران پڑھنے سے انکار کر دیا۔
اتوار کو ایل منڈو اخبار نے بتایا کہ تقریباً فٹ بال ایسوسی ایشن کی جانب سے مقرر کیے گئے ایک بیرونی مشیر لوئس ارویو کے لکھے گئے لیٹر میں روبیلز کے استعفیٰ کے امکان سمیت حساس موضوعات پر بات کی گئی تھی۔
روبیلز نے حالیہ دنوں میں خواتین کا ورلڈ کپ جیتنے کے بعد تقریب میں سپین کی قومی کھلاڑی کو بوسہ دیا اور احتجاج اور تنقید کے بعد استعفیٰ دینے پر مجبور ہوگئے تھے۔ یہ لیٹر جس کا انکشاف ہوا ہے روبیلز کو درپیش مخمصوں پر روشنی ڈالتا ہے۔
اخبار کی طرف سے شائع لیٹر کے کا متن میں درج ہے ’’میں دل کی گہرائیوں سے بہت معذرت خواہ ہوں کیونکہ میں نے اپنی خواتین ٹیم کی اس عظیم فتح کو توڑ مروڑ کر پیش کیا۔ پہلی غلطی کھلاڑی جینی ہرموسو کے ساتھ اعتماد کی حدوں سے تجاوز کرنا تھی۔ وہ جانتی ہیں کہ میرا کوئی برا ارادہ نہیں تھا لیکن یہ واضح ہے کہ وہ خوشی کی نشانی تھی۔
میں بے شک نامکمل ہوں لیکن میں خود کو ایک باعزت شہری سمجھتا ہوں اور میں نے کبھی بھی خواتین پر تشدد کو قبول نہیں کیا۔ دوسری غلطی یہ تھی کہ خاص طور پر کھلاڑیوں اور کوچز کے ساتھ کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد میں اس وقت سماجی حساسیت کو سراہنے کے قابل نہیں تھا۔ تیسری غلطی میں نے یہ کی کہ اپنے رویے کی مذمت نہیں کی۔
مجھے اس وقت کہنا چاہیے تھا جو میں اب کہتا ہوں مجھے افسوس ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ میرے اس رویے میں کوئی قابل سزا فعل نہیں ہے اور اگر ضروری ہوا تو میں اس کی تصدیق کروں گا لیکن یہ واضح ہے کہ میرا رویہ مناسب نہیں تھا اور میں اپنی معذرت دہراتا ہوں۔