ایرانی پارلیمان میں خواتین کے ضابطۂ لباس کی خلاف ورزی پر سخت سزا کا بل منظور
'حجاب اور پاکیزگی کی ثقافت کی حمایت' میں بل پر مبنی قانون تین سال کی آزمائشی مدت کے لیے ہوگا
ایران میں قانون سازوں نے بدھ کے روز ایک متنازع بل منظور کیا ہے جس کے تحت اسلامی ضابطۂ لباس کی خلاف ورزی کرنے والی خواتین کو سخت سزائیں دی جاسکیں گی اور انھیں زیادہ سے زیادہ 10 سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔
ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ’ایرنا‘ کی رپورٹ کے مطابق قانون ساز اسمبلی نے ’حجاب،شرم وحیا اور پاکیزگی کے کلچرکی حمایت‘ کے بل کی منظوری دی ہے۔ اس بل کو اب بھی قانون بننے کے لیے شورائے نگہبان کی منظوری کی ضرورت ہے۔
مسودۂ قانون کے مطابق غیر ملکی یا مخالف حکومتوں، میڈیا، انسانی حقوق کے گروپوں یا تنظیموں کے ایماء پر یا حمایت سے حجاب یا مناسب لباس نہ پہننے والی خواتین کو پانچ سے 10 سال تک قید کی سزا دے جاسکے گی۔
واضح رہے کہ ایران میں گذشتہ برس بڑے پیمانے پر مظاہروں کے بعد سے خواتین ملک میں نافذالعمل سخت ضابطہ لباس کی خلاف ورزی کرتی نظر آرہی ہیں۔سرکاری ڈریس کوڈ کے تحت خواتین کو عوامی مقامات پر سرڈھانپنے اور سادہ کپڑوں میں ملبوس ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایران میں گذشتہ سال ستمبر میں 22 سالہ کرد دوشیزہ مہسا امینی کی پولیس کے زیرحراست موت کے بعد احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے۔انھیں تہران کی اخلاقی پولیس نے مبیّنہ طور پر ضابطہ لباس کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ان مظاہروں کے دوران میں دسیوں سکیورٹی اہلکاروں سمیت سیکڑوں افراد ہلاک ہوگئے تھے اور ہزاروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ایرانی حکام نے مظاہروں کو غیرملکیوں کی جانب سے بھڑکائے جانے والے فسادات کا نام دیا تھا۔
ایران میں 1979 میں برپاشدہ انقلاب کے بعد سے نافذ العمل ضابطۂ لباس کے تحت خواتین کے لیے سر اور گردن کو ڈھانپنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔حکام اور پولیس کے گشتی دستوں نے حالیہ مہینوں میں ایسی خواتین اور کاروباری اداروں کے خلاف اقدامات میں اضافہ کیا ہے جو ضابطۂ لباس پر عمل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔گذشتہ مہینوں میں اس ضابطے کی تعمیل نہ کرنے پر کئی ایک کاروبار بند کر دیے گئے ہیں اوربڑے شہروں میں ضابطۂ لباس کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کے لیے عوامی مقامات پرکیمرے نصب کیے گئے ہیں۔