سعودی وفد مقبوضہ مغربی کنارے میں رام اللہ کا دورہ کرے گا: فلسطینی عہدہ دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک فلسطینی عہدہ دار نے بتایا ہے کہ سعودی عرب کا ایک وفد رواں ہفتے اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع رام اللہ شہر کا دورہ کرے گا اور وہاں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کرے گا جبکہ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان امن معاہدے کو یقینی بنانے کی سفارتی کوششیں جاری ہیں جس میں فلسطینیوں کے لیے مراعات شامل ہوسکتی ہیں۔

اس عہدہ دار نے بتایا کہ وفد کی قیادت فلسطین میں غیر مقیم سعودی سفیر کریں گے، جن کا تقرر گذشتہ ماہ کیا گیا تھا۔سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان معمول کے تعلقات استوار کرنے کے معاہدے تک پہنچنے کی کوششیں جاری ہیں۔

اس دوران میں امریکی عہدے داروں نے اشارہ دیا ہے کہ واشنگٹن کا اسرائیل کے ساتھ دفاعی معاہدہ اور سعودی عرب کے لیے سویلین جوہری پروگرام سمیت کوئی بھی معاہدہ متوقع ہے۔

اس مجوزہ معاہدے کے ضمن میں تصفیہ طلب مسائل میں تنازع فلسطین سرفہرست ہے۔اس لیے دونوں فریقوں کے درمیان امن عمل کی بحالی کا مطالبہ کیا جائے گا جس سے اسرائیل کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور تنازع کے دو ریاستی حل کی راہ ہموار ہو۔

واضح رہے کہ امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات 2014 میں منقطع ہو گئے تھے اور بعد کے برسوں میں تشدد کی لہر کی وجہ سے دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات مزید خراب ہو گئے تھے جس سے امن مذاکرات بحال نہیں ہوسکے۔

گذشتہ ہفتے صدر محمودعباس نے کہا تھا کہ جب تک فلسطینیوں کو مکمل حقوق نہیں دیے جاتے تب تک مشرق اوسط میں کوئی پائیدارامن معاہدہ حاصل نہیں کیا جا سکتا جبکہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے تنازع کے دو ریاستی حل کے مقصد کی بحالی پر زور دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں