واشنگٹن میں حکومتی شٹ ڈاؤن سے گریز کرنے والے امریکی کانگریس کے ایک معاہدے سے کیئف کو دی جانے والی امداد کو خارج کرنے کے چند دن بعد صدر جو بائیڈن نے منگل کے روز یوکرین کے لیے اپنے ملک کی مسلسل حمایت اور مدد جاری رکھنے کی تصدیق کی ہے۔
انہوں نے اپنے اتحادی ممالک کے رہ نماؤں کو فون کیے اور انہیں یقین دلایا کہ امریکا یوکرین کی روس کے خلاف جنگ میں مدد جاری رکھے گا۔
وائٹ ہاؤس نے کہا کہ "صدر بائیڈن نے کل صبح اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ یوکرین کے لیے مسلسل حمایت کو مربوط کرنے کے لیے فون کیا۔ امریکی صدر کی اس ضمن میں کینیڈا، جرمنی، اٹلی، جاپان، پولینڈ، رومانیہ، برطانیہ، یورپی یونین، اور فرانسیسی وزیر خارجہ کے علاوہ نیٹو شامل ہیں۔
دباؤ کا سامنا
یہ قابل ذکر ہے کہ بائیڈن کو اتحادیوں کے خدشات کو پرسکون کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا جب کانگریس نے ہفتے کے روز آخری لمحات میں بجٹ کے معاہدے پر پہنچ گئی۔ ریپبلکن پارٹی کے سخت گیر ونگ کے دباؤ میں یوکرین کے لیے نئی امداد اس معاہدے سے باہر رہی۔
ڈیموکریٹ بائیڈن نے ایوان نمائندگان میں ریپبلکن اکثریتی رہ نما کیون میکارتھی سے نئی امداد کی منظوری میں تیزی لانے کا مطالبہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ روسی فوج کے سامنے یوکرین کے لیے امریکی فوجی امداد میں رکاوٹ ڈالنا کسی بھی صورت میں ممکن نہیں ہے۔
"وقت ختم ہو رہا ہے"
انہوں نے "ایکس" پلیٹ فارم پر یہ بھی لکھا کہ "ہاؤس کے اسپیکر میکارتھی اور ریپبلکن اکثریت کو اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیے اور یوکرین کے اپنے دفاع میں مدد کے لیے درکار حمایت کو یقینی بنانا چاہیے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ "ہم اس دنیا میں ایک ناگزیر قوم ہیں، لہذا ہمیں اس بنیاد پر کام کرنے دیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وقت ختم ہو رہا ہے کیونکہ موجودہ فنڈنگ ختم ہونے کے قریب ہے‘‘۔