بائیڈن کا اسرائیل سے "جنگی قوانین" کے احترام پر زور، 1,200 فلسطینی شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل نے مسلسل چھٹے روز بھی غزہ کی پٹی پر بمباری جاری رکھی ہوئی ہے جس میں اب تک غزہ کی پٹی میں کم سے کم بارہ سو اموات ہو چکی ہیں۔

دوسری طرف امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں جاری کارروائیوں میں بین الاقوامی جنگی قوانین کا احترام کرے۔

جمعرات کو الاقصیٰ ٹی وی نے غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ پٹی پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 1200 تک پہنچ گئی ہے جب کہ زخمیوں کی تعداد 5600 کے قریب پہنچ گئی ہے۔

اقوام متحدہ نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں 338,000 سے زیادہ لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور (اوچا) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 2.3 ملین افرا میں بے گھر ہونے والوں کی تعداد میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ کل بدھ کی سہ پہر تک 75,000 مزید افراد بے گھر ہو گئے تھے جس کے بعد بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد تین لاکھ 38 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

زخمی فلسطینی

دریں اثناء بدھ کے روز امریکی صدر جو بائیڈن نے اسرائیل سے کہا کہ وہ غزہ کی پٹی سے حماس کے حملے کے جواب میں "جنگ کے قوانین" کا احترام کرے۔ انہوں نے ایران کو موجودہ تنازع میں مداخلت کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔

جو بائیڈن نے امریکا میں یہودی امریکیوں کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ "میں نے اسرائیلی وزیر اعظم (بنجمن نیتن یاہو) سے ایک اہم بات کی ہے۔ وہ یہ ہے کہ یہ واقعی اہم ہے کہ اسرائیل، تمام تر غصے اور ناراضی کے باوجود جنگ کے قوانین کے مطابق کام کریں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "میں نے ایرانیوں کو واضح پیغام بھیجا ہے کہ وہ غزہ جنگ سے خود کو دور رکھیں‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم اسرائیل اور دنیا بھر میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے تاکہ اسرائیل کو اپنے شہریوں کے دفاع کے حق کو یقینی بنایا جا سکے۔

اسلامی جہاد کے عسکری ونگ القدس بریگیڈز کے ترجمان ابو حمزہ نے جمعرات کو خبردار کیا کہ اسرائیل کے خلاف لڑائی کا دائرہ غزہ سے باہر تک پھیل سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں