غزہ میں خوراک اور پانی کی سپلائی محدود، صورتحال تباہ کن ہوگئی: ورلڈ فوڈ پروگرام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے ترجمان نے العربیہ کو بتایا کہ غزہ کی صورت حال تباہ کن ہو گئی ہے۔ کیونکہ محصور شہر میں خوراک، پانی اور بجلی کی فراہمی مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے فلسطین کنٹری آفس میں کمیونیکیشن اور انفارمیشن مینجمنٹ کی سربراہ عالیہ ذکی نے کہا کہ غزہ میں خوراک، پانی اور بجلی ختم ہونے کے قریب ہے اور صورت حال تباہ کن ہو گئی ہے۔ ہفتہ سات اکتوبر کو علی الصباح فلسطینی تنظیم ’’حماس‘‘ نے غزہ سے غیر متوقع طور پر اسرائیل پر حملہ کر دیا تھا۔

جنگ پانچویں روز بھی جاری رہی۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر خوفناک بمباری کی جارہی۔ فاسفورس بم بھی برسائے جا رہے اور غزہ کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی ہے۔ غزہ کو خوراک، پانی اور بجلی کی ترسیل روک دی گئی ہے۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کی عالیہ زکی نے کہا غزہ میں تباہ شدہ انفراسٹرکچر نے خوراک کی تیاری، دکانوں اور بیکریوں میں خوراک کی تقسیم میں شدید رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں ڈبلیو ایف پی اس صورت حال کو مانیٹر کر رہا ہے۔

ڈبلیو ایف پی کے زیر نگرانی آدھی دکانوں اور بیکریوں میں ایک ہفتے کے اندر کھانا ختم ہو جائے گا۔ وہ افراد جو اب بھی کام کر رہے ہیں، ان کو بھی بجلی کی بار بار بندش سے خوراک کے خراب ہو جانے کی صورت حال کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق غزہ کی 80 فیصد سے زیادہ آبادی پہلے ہی غربت کی زندگی گزار رہی ہے۔

بدھ کی سہ پہر غزہ کی بجلی کی اتھارٹی کی طرف سے ایک اعلان دیکھا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ غزہ کی پٹی کے اکلوتے پاور پلانٹ میں ایندھن ختم ہو گیا اور اس کے بعد کام بند ہو گیا ہے۔

پاور اتھارٹی کے سربراہ جلال اسماعیل نے ایک بیان میں کہاکہ غزہ کی پٹی میں واحد پاور پلانٹ نے دوپہر دو بجے یعنی گرینچ کے معیاری وقت 1100 بجے کام کرنا بند کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا رہائشی اب بھی بجلی کے لیے پاور جنریٹر استعمال کر سکتے ہیں تاہم سرحد کے تمام اطراف میں اسرائیل کی ناکہ بندی کی وجہ سے ان جنریٹرز کو چلانے کے لیے ضروری ایندھن جلد ہی ختم ہونے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی سپلائی کو مکمل طور پر منقطع کرنے سے غزہ کے لوگوں کو خوراک کے بہت کم ذخیرہ کو نقصان پہنچے گا۔ بجلی کی بار بار بندش اور مواصلات کے مسائل بھی شہر میں ڈبلیو ایف پی کے کاموں میں رکاوٹ ڈالیں گے۔

زکی کے مطابق ڈبلیو ایف پی نے پہلے ہی غزہ اور مغربی کنارے کے آٹھ لاکھ سے زیادہ لوگوں جو خوراک، پانی اور ضروری سامان تک رسائی سے محروم ہیں کو خوراک کی ایک اہم لائف لائن فراہم کرنے کے لیے ایک ہنگامی آپریشن شروع کر دیا ہے۔

کھانے کے لیے تیار تازہ روٹی اور ڈبہ بند کھانا ایک لاکھ 37 ہزار بے گھر غزہ کے باشندوں کو پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ افراد یو این ورکس اینڈ ریلیف ایجنسی ’انروا‘ کے دفاتر میں پناہ کی تلاش میں ہیں۔ ڈبلیو ایف پی نے ایک لاکھ 64 ہزار لوگوں کو اپنے الیکٹرانک واؤچرز میں ہنگامی کیش ٹاپ اپ بھی فراہم کیا ہے جسے وہ مقامی دکانوں سے کھانا خریدنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

تاہم تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار بے گھر افراد غزہ کی پٹی میں انروا کے 88 سکولوں میں پناہ کی تلاش میں ہیں۔ ان کی تعداد میں اضافہ متوقع ہے کیونکہ اسرائیلی فضائی حملے بدستور جاری ہیں۔ انہوں نے العربیہ کو بتایا کہ جلد ہی ہمارا پہلے سے رکھا ہوا کھانے کا ذخیرہ اور وسائل ختم ہو جائیں گے۔

سویڈن اور ڈنمارک سمیت متعدد ممالک نے کہا ہے کہ وہ حماس کے اسرائیل پر اچانک حملے کے بعد فلسطینی علاقوں کی امداد روک دیں گے۔ اس ہفتے کے شروع میں وسیع پیمانے پر تنقید کے بعد یورپی کمیشن نے اپنے اس اعلان سے پیچھے ہٹ گیا کہ وہ محصور شہر کی امداد معطل کر دے گا۔

یورپی کمیشن کی پسپائی اس وقت ہوئی جب ناروے، سپین، اور کئی دیگر ملکوں اور انسانی حقوق گروپ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پہلے سے سنگین صورتحال امداد معطلی کی وجہ سے مزید بگڑ جائے گی۔

زکی نے کہا کہ ڈبلیو ایف پی غزہ میں امداد پہنچانے کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر راہداریوں کو کھولنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ سرحدوں کو کھلا رکھا جائے اور گولہ باری سے محفوظ رکھا جانا بھی ضروری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں