سعودی عرب کی سرکردہ پیٹرولیم کمپنی آرامکو پاکستان میں شیل پی ایل سی کے اثاثوں کے لیے بولی لگانے کا جائزہ لے رہا ہے جسے ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق یہ ممکنہ معاہدہ جنوبی ایشیائی ملک کے توانائی کے شعبے میں سعودی عرب کے پہلے منصوبے کی کے قیام کا باعث بن سکتا ہے۔ سعودی آرامکو، جو کہ دنیا کی سب سے بڑی تیل کی کمپنی ہے، شیل پاکستان کے اثاثوں کا جائزہ لے رہی ہے، خاص طور پراس کی نظر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ شیل پاکستان لمیٹڈ پر مرکوز ہے، جس کی مارکیٹ ویلیو 123 ملین ڈالربتائی جاتی ہے۔
اگرچہ ممکنہ لین دین کی قیمت خرید ابھی تک ظاہر نہیں کی گئی ہے، تاہم ذرائع بتاتے ہیں کہ زیر غور اثاثوں کی کل قیمت تقریباً 200 ملین ڈالر ہو سکتی ہے۔
تاہم اس مرحلے پرحتمی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ سرمایہ کاری کیلئے جاری بات چیت لازمی لین دین پر منتج ہو گی۔ رپورٹ میں ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ بات چیت ابتدائی مراحل میں ہے اور حتمی فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔
بلومبرگ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ امر بھی خارج از امکان نہیں کہ دوسرے ممکنہ خریدار بھی ان اثاثوں کی خریداری میں مقابلے کے طور پر ابھر سکتے ہیں۔
دوسری جانب شیل نے ممکنہ فروخت کے بارے میں تفصیلات بتانے سے گریز کیا ہے۔ ایک نمائندے کے حوالے سے کہا گیا کہ کسی بھی فروخت کا ہدف، اس کے لئے جاری عمل، اور قابل اطلاق ریگولیٹری منظوریوں کے ساتھ مشروط ہوگا۔ تاہم، شیل نے کسی مخصوص کمپنی پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
یہ پیشرفت اس سال جون میں شیل پاکستان لمیٹڈ (ایس پی ایل) کی جانب سے کیے گئے ایک اعلان کے بعد ہے، جہاں بنیادی کمپنی، شیل پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ (ایس پی سی او) نے ایس پی ایل میں اپنے شیئر ہولڈنگ کو فروخت کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا