انڈونیشیا نے منگل کے روز اسرائیلی فوج کے ترجمان کے ان بیانات کی سختی سے تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ غزہ میں انڈونیشیا کی مالی معاونت سےتیار ہونے والے ایک ہسپتال کے نیچے حماس کی سرنگیں ہیں اور یہ راکٹ حملوں کے لیے ایک پلیٹ فارم سے ملحق ہے۔
اسرائیل کے ساتھ مضبوط سرحد کے قریب شمالی غزہ کی پٹی میں واقع یہ ہسپتال انڈونیشیا کے خیراتی عطیات کے فنڈز سے بنایا گیا تھا۔
انڈونیشیا کی وزارت خارجہ نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ "غزہ میں انڈونیشی ہسپتال ایک ایسی سہولت ہے جو مکمل طور پر انڈونیشی عوام نے انسانی ہمدردی کے مقاصد کے لیے اور غزہ میں فلسطینی عوام کی طبی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیار کی ہے۔
یہ بیان اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری کے اعلان کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے کہ جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ہسپتال ایک ایسی جگہ پر بنایا گیا ہے جو حماس کی سرنگوں کے نیٹ ورک کو چھپاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حماس اسرائیل پر راکٹ داغنے کے لیے قریبی جگہ کو اڈے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
انھوں نے یوٹیوب پر اسرائیلی فوج کی جانب سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو ریکارڈنگ میں کہا کہ "میں آپ کو دکھاؤں گا کہ انھوں نے وہاں ہسپتال کیوں بنایا۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ حماس نے اپنے دہشت گردانہ ڈھانچے پر اسپتال تعمیر کیا۔"
انہوں نے مزید کہا "یہاں اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے ایک لانچنگ پیڈ کی نشاندہی کی اور دعویٰ کہا کہ وہ وہاں سے میزائل داغے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کہا اس کا فوٹو گرافی ثبوت موجود ہے‘‘۔
انڈونیشیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان اقبال محمد نے ہسپتال کے حوالے سے ان بیانات کو مسترد کر دیا، جو غزہ کے دیگر طبی مراکز کی طرح جو بمباری سے تباہ ہو رہے ہیں۔
ہسپتال کو چلانے والی خیراتی انجمن (MER-C) نے اس بات کی تردید کی کہ ہسپتال حماس کے زیر استعمال تھا۔
ایسوسی ایشن کے صدر سربینی عبد المراد نے پیر کو جکارتہ میں کہا کہ "اسرائیل ہم پر جو الزام لگا رہا ہے وہ غزہ میں انڈونیشیائی ہسپتال پر حملہ کرنے کا بہانہ ہو سکتا ہے"۔
مراد نے مزید کہا کہ "آئی ڈی ایف کے الزامات ہم پر حملوں کو جواز فراہم کرنے کا بہانہ ہیں۔ اس لیے ہم ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں‘‘۔
حماس مسلسل اسرائیلی الزامات کی تردید کرتی ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے ہسپتالوں اور دیگر شہری انفراسٹرکچر کا استعمال کیا۔
اسرائیلی حکام کے مطابق، 7 اکتوبر کو اسرائیل کے اندر حماس کے ایک غیر معمولی حملے کے جواب میں، ایک ماہ سے اسرائیل محصور غزہ کی پٹی پر شدید بمباری کر رہا ہے۔
حماس کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری کی کارروائیوں کے آغاز سے اب تک 10,000 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں 4,000 سے زیدہ بچے بھی شامل ہیں۔