آسکر ایوارڈ یافتہ ہالی ووڈ اداکارہ کو اسرائیل کے خلاف بولنے پر عتاب کا سامنا
'چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے '
ہالی ووڈ بھی اسرائیل کی حمایت میں سرگرمی سے اقدامات کی خبروں کا موضوع بن گیا ہے۔ ہالی ووڈ ٹیلنٹ ایجنسی ' یو ٹی اے ' نے فلسطینیوں کے حق میں بولنے پر آسکر ایوارڈ یافتہ اداکارہ کو اپنی لسٹ سے خارج کر دیا ہے۔
اداکارہ سوسان سارانڈن نے 17 نومبر کو ایک ریلی کے دوران غزہ میں بچوں اور عورتوں کی شہادتوں پر اسرائیل کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔
اداکارہ نے یہ بھی کہا تھا ' ایسے بہت سے لوگ ہیں جو ڈرتے ہیں، وہ اس وقت یہودی ہوتے ہوئے خوفزدہ ہیں ، وہ اس بات کا مزہ چکھ رہے ہیں کہ مسلمان کیسا محسوس ہوتا ہے۔ '
ہالی ووڈ کی اداکارہ نے اس موقع پر حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اسرائیلی حماس جنگ میں فلسطینیوں کی حمایت پر ابھارا ۔
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ' لوگ سوال کر رہے ہیں، لوگ کھڑے ہو رہے ہیں، لوگ خود کو تعلیم اور شعور سے آراستہ کر رہے ہیں، اب لوگ برین واشنگ کے اثرات سے نکل رہے ہیں، جیسا کہ ہم بچوں کو پہلے دن سے ہی ' برین واش کیا جاتا ہے۔'
اسرائیل کے بارے میں بات کرنے پر عتاب کا نشانہ بننے والی اس اداکارہ نے ریلی کے شرکاء کو ' مشورہ دیا تھا کہ ' مضبوط ہو جاؤ ، مضبوط رہو اور شرح صدر کے ساتھ اس کے ساتھ کھڑے ہو جاو جس میں بول پڑنے کی ہمت ہو۔' اداکارہ نے یہودی کمیونٹی کی طرف سے 'فلسطین کاز' کی حمایت پر یہودی کمیونٹی کا شکریہ بھی ادا کیا۔
واضح رہے ہالی ووڈ کی یہ بڑی اداکارہ اب کی آخری 'سلیبرٹی' ہیں جو اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے خلاف بات کرکے عتاب کا نشانہ بنی ہیں۔ اس سے پہلے کئی بڑے ناموں کو اس طرح کی سزا کا سامنا کرنا پڑ چکا ہے۔