وزرائے اعظم نے مخالفت کیوں کی؟ اسرائیل نے بیلجیئم اور سپین کے سفیروں کو طلب کرلیا
اسرائیل نے غزہ کی سرحد پر رفح کراسنگ کے سامنے ایک پریس کانفرنس میں اپنے ملکوں کے وزرائے اعظم کے بیانات کی وجہ سے سپین اور بیلجیئم کے سفیروں کو طلب کر لیا۔
بیلجیئم کے وزیر اعظم الیگزینڈر ڈی کرو نے اسرائیل سے غزہ کی پٹی میں شہریوں کا قتل عام بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور کہا کہ پٹی کی تباہی ناقابل قبول ہے۔ بیلجیئم کے وزیر اعظم نے رفح کراسنگ کے سامنے جمعہ کو مزید کہا کہ حماس کو تمام قیدیوں کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے غزہ میں عارضی جنگ بندی کو مستقل جنگ بندی میں تبدیل کرنے کی ضرورت پربھی زور دیا۔
"العنف لن يجلب إلا العنف"...رئيس وزراء #إسبانيا: ما يحدث في غزة أسوأ كارثة إنسانية في العصر الحديث
— العربية (@AlArabiya) November 24, 2023
#العربية pic.twitter.com/xobyKBH244
ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے کہا ہے کہ غزہ میں موجودہ جنگ بندی کافی نہیں اور اب مستقل جنگ بندی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر یورپی یونین ایسا نہیں کرتی ہے تو سپین فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا خود فیصلہ کر سکتا ہے۔ سپین اور بیلجیئم کے وزرائے اعظم غزہ کی پٹی میں طبی اور خوراک کی امداد پہنچانے کے لیے رفح رفح کراسنگ تک پہنچے۔ مصری صدر عبدالفتاح سیسی نے سپین اور بیلجیئم کے وزرائے اعظم کے ساتھ دورہ کیا۔