طیب ایردوآن نے نیتن یاہو کو غزہ کا قصاب قرار دیدیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کو غزہ کے قصاب کا لقب دیا ہے۔ وہ پچھلے ڈیڑھ ماہ کے دوران غزہ میں اسرائیلی بمباری اور ٹینک حملوں کے نتیجے میں ہونے والی چھ ہزار بچوں سمیت پندرہ ہزار سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا ذکر کر رہے تھے۔

طیب ایردوآن نے اس موقع پر نیتن یاہو کو یہود مخالفت کا سب سے بڑا سبب بھی قرار دیا۔ اسرائیل کی طرف سے حماس کے سات اکتوبر کے حملے جواب میں وسیع پیمانے پر کی گئی ہلاکتوں اور تباہی پر صدر ایردوآن نے بار بار تنقید کی اور اسرائیل کوایک دہشت گرد ریاست کا نام دیا۔

جبکہ ترکیہ کے صدر نے حماس کو آزادی پسند گروپ کا نام دیا۔ طیب ایردوآن اپنی اسلام میں جڑیں رکھنے والی سیاسی جماعت کے ارکان سے خطاب کر رہے تھے ۔

ایردوآن نے کہا ' نیتن یاہو نے پہلے ہی تاریخ میں اپنا نام غزہ کے قصاب کے طور پر لکھ لیا ہے۔ ' ان کے یاہو کے بارے میں ان ریمارکس کو قومی سطح پر ٹی وی نے دکھایا۔

ترکیہ کے صدر نے یاہو کو صرف فلسطینیوں کا قاتل نہیں قرار دیا بلکہ دنیا بھر میں یہودیوں کا بھی دشمن کہا ، کیونکہ ایردوآن کے بقول وہ فلسطینیوں کو قتل کر کے یہودیوں کے لیے بھی دشمنی کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ کیونکہ یہودیوں کے لیے خطرہ اس کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔

ایردوآن نے اسرائیل اور اس کے فلسطینیوں کے خلاف بد ترین بمباری کے ذمہ دار رہنماؤں کے خلاف تیز زبان استعمال کر کے اسرائیل کےساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان ایک دہائی کے بعد سفارتی تعلقات بحال ہوئے تھے۔

غزہ کی جاری جنگ کے دوران ہی اسرائیل نے ترکیہ سے اپنے سفارت کاروں کو واپس بلایا ہے۔ ترکیہ نے بھی تل ابیب سے اپنے سفارت کاروں کو واپس بلا لیا ہے۔

ایردوآن نے کہا' حماس کے خاتمے کے لیے نیتن یاہو کی انتظامیہ کے بیانات اس معاملے کو پیچیدہ بنا رہے ہیں جو جنگ بندی کے لیے ثالث ملک کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں امید متاثر ہو رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں