روس کے خلاف جنگ، یوکرین نے اگلے مورچوں پر فوج کے ساتھ بلیاں کیوں تعینات کیں؟
یوکرین میں روسی فوجی آپریشن اپنے دوسرے سال کے قریب پہنچ رہا ہے جب کہ دوسری طرح مختلف محاذوں پر جھڑپیں جاری ہیں۔ دونوں طرف سے ایک دوسرے پر الزامات کی بھرمار ہے اور نئے نئے الزامات عاید کیے جا رہے ہیں۔
چوہے جنہوں نے سب کچھ تباہ کردیا
جرمن اخبار ’بیلد‘ کے مطابق یوکرین نے خندقوں پر حملہ کرنے والے چوہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بلیوں کو جنگی محاذوں پر بھیجنا شروع کیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب چوہوں نے فوجیوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا اور رات کے وقت سپاہیوں کو پریشان کرنا شروع کر دیا۔ چوہے سلیپنگ بیگز میں گھس کراندر موجود ہر چیز کو کاٹ ڈالتے ہیں۔ فوجیوں کے یونیفارم ، ہیلمٹ اور مواصلاتی کیبلز سمیت کوئی چیز محفوظ نہیں۔
Ukraine began sending cats to the front to fight mice, rats and snakes, - Bild.
— War_Watcher 🇺🇦🇬🇧 (@war_crimes_uk) December 3, 2023
The invasion of rodents and snakes has become a serious problem for the Ukrainian army.
Mice and rats prevent military personnel from sleeping, bite, eat provisions and gnaw on everything. pic.twitter.com/zi0LZPDUeY
اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے یوکرین نے بلیوں کو اگلے مورچوں پر بھیجنا شروع کیا اور فوجیوں نےبلیوں کو بھی خندقوں میں داخل کیا۔
رپورٹ میں یہ اشارہ بھی دیا گیا ہے کہ یوکرین کی فوج کی خندقوں میں چوہوں کی تعداد گذشتہ سال کے مقابلے میں کافی بڑھ گئی ہے۔ دیمتری نامی یوکرین کے فوجی نے انکشاف کیا کہ اس نے گذشتہ موسم سرما میں ایک بھی چوہا نہیں دیکھا، جب کہ جنگجو نے شکایت کی کہ اس بارچوہوں نے اس کی جیکٹ میں سوراخ کر دیا تھا۔
ملٹری یونٹ کے کمانڈر ولادیمیر نے اطلاع دی کہ چوہے نہ صرف فوجیوں کے سامان بلکہ خندقوں میں موجود تاروں کو بھی خراب کرتے ہیں۔ چوہے سٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ اسٹیشنوں پر بھی حملہ کر رہے ہیں۔
‼️🇷🇺⚔️🇺🇦 With winter setting in a new problem arose. Rats and mice seeking shelter in trenches and strongholds.
— Maimunka News (@MaimunkaNews) December 2, 2023
🇺🇦🪖💀 They say the mice population is massive due to all the dead Armed Forces of #Ukraine soldiers who's bodies litter the fields in Zaporozhye. pic.twitter.com/SkO4ooSdTf
صحافی ایمانوئل پیچوکس نے مزید کہا کہ چوہے گرمی اور خوراک کی تلاش میں یوکرین کی خندقوں پر حملہ کرتے ہیں۔ اس سے ان چپچپا جالوں کی طرف بھی توجہ مبذول ہوتی ہے جن سے یوکرین کی مسلح افواج کے سپاہی چوہوں سے لڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ یوکرین میں روسی فوجی کارروائیاں بدستور جاری ہیں جس کے جلد حل ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔