روس اور یوکرین

روس کے خلاف جنگ، یوکرین نے اگلے مورچوں پر فوج کے ساتھ بلیاں کیوں تعینات کیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوکرین میں روسی فوجی آپریشن اپنے دوسرے سال کے قریب پہنچ رہا ہے جب کہ دوسری طرح مختلف محاذوں پر جھڑپیں جاری ہیں۔ دونوں طرف سے ایک دوسرے پر الزامات کی بھرمار ہے اور نئے نئے الزامات عاید کیے جا رہے ہیں۔

چوہے جنہوں نے سب کچھ تباہ کردیا

جرمن اخبار ’بیلد‘ کے مطابق یوکرین نے خندقوں پر حملہ کرنے والے چوہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بلیوں کو جنگی محاذوں پر بھیجنا شروع کیا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب چوہوں نے فوجیوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا اور رات کے وقت سپاہیوں کو پریشان کرنا شروع کر دیا۔ چوہے سلیپنگ بیگز میں گھس کراندر موجود ہر چیز کو کاٹ ڈالتے ہیں۔ فوجیوں کے یونیفارم ، ہیلمٹ اور مواصلاتی کیبلز سمیت کوئی چیز محفوظ نہیں۔

اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے یوکرین نے بلیوں کو اگلے مورچوں پر بھیجنا شروع کیا اور فوجیوں نےبلیوں کو بھی خندقوں میں داخل کیا۔

رپورٹ میں یہ اشارہ بھی دیا گیا ہے کہ یوکرین کی فوج کی خندقوں میں چوہوں کی تعداد گذشتہ سال کے مقابلے میں کافی بڑھ گئی ہے۔ دیمتری نامی یوکرین کے فوجی نے انکشاف کیا کہ اس نے گذشتہ موسم سرما میں ایک بھی چوہا نہیں دیکھا، جب کہ جنگجو نے شکایت کی کہ اس بارچوہوں نے اس کی جیکٹ میں سوراخ کر دیا تھا۔

ملٹری یونٹ کے کمانڈر ولادیمیر نے اطلاع دی کہ چوہے نہ صرف فوجیوں کے سامان بلکہ خندقوں میں موجود تاروں کو بھی خراب کرتے ہیں۔ چوہے سٹار لنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ اسٹیشنوں پر بھی حملہ کر رہے ہیں۔

صحافی ایمانوئل پیچوکس نے مزید کہا کہ چوہے گرمی اور خوراک کی تلاش میں یوکرین کی خندقوں پر حملہ کرتے ہیں۔ اس سے ان چپچپا جالوں کی طرف بھی توجہ مبذول ہوتی ہے جن سے یوکرین کی مسلح افواج کے سپاہی چوہوں سے لڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ یوکرین میں روسی فوجی کارروائیاں بدستور جاری ہیں جس کے جلد حل ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں