ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد کے مسودے کو روکنے کے لیے امریکا کے ویٹو کے استعمال پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے "انسانیت کے خلاف ووٹ" قرا ردیا۔ ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم نے سلامتی کونسل میں غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد کو ویٹو کرنے کو غزہ میں جاری قتل عام میں امریکا کی شرکت قرار دیا ہے۔
تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی ویٹو ان اقدار سے متصادم ہےجن کا امریکا دعوے کرتا ہے۔ امریکا دنیا میں امن کا پیغام دیتا ہے اور یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتا ہے مگر غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد ویٹو کرنا امریکا کے ان دعووں کی عملی نفی ہے۔
عرب عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق تنظیم نے فوری جنگ بندی کی ضرورت پر بھی زور دیا اور خبردار کیا کہ امریکی ویٹو اسے "غزہ میں قتل عام میں شریک" بناتا ہے۔
اس کے علاوہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی امریکی ویٹو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ "شہریوں کی تکالیف، وسیع پیمانے پر تباہی اور غزہ کی پٹی میں غیر مسبوق انسانی تباہی کو دیکھ کر دانستہ بے حسی کا مظاہرہ کرنے کے مترادف ہے۔
ایمنسٹی نے اپنی ویب سائٹ پر مزید کہا کہ "شہریوں کی خونریزی کو ختم کرنے کے لیے سلامتی کونسل کو فیصلے کرنے سے روکنے کا کوئی جواز نہیں ہے"۔
امریکی ویٹو
قابل ذکر ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ہفتے کی صبح غزہ کی پٹی میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرنے کے لیے پیش کی گئی قرارداد کے مسودے کو منظور کرنے میں اس وقت ناکام رہی جب امریکا نے قرارداد کو ویٹو کر دیا۔
-
اسرائیلی نے بمباری کر کے غزہ میں تاریخی عمری مسجد شہید کر دی
فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے جمعہ کے روز اسرائیلی فوج کی طرف سے تاریخی عمری مسجد ...
ایڈیٹر کی پسند -
امریکہ نے سلامتی کونسل کی غزہ پر فائر بندی کی قرارداد ویٹو کر دی
فائر بندی قرادداد ویٹو کرنے کا امریکی فیصلہ ’'غیر اخلاقی اور غیر انسانی‘ ہے: حماس
بين الاقوامى -
کیا بائیڈن نے اسرائیل کے لیے غزہ جنگ کے خاتمے کی کوئی تاریخ مقرر کردی؟
اسرائیلی چینل 12 نے اطلاع دی ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے 2023 کے آخر میں غزہ میں ...
بين الاقوامى