فلسطین اسرائیل تنازع

یو این جنرل اسمبلی میں غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد پر ووٹنگ آج ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوامِ متحدہ کی 193 رکنی جنرل اسمبلی میں غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد پر آج بروز منگل ووٹنگ کا امکان ہے جسے گذشتہ ہفتے 15 رکنی سلامتی کونسل میں امریکا نے ویٹو کر دیا تھا۔

خبررساں ادارے ’رائٹرز‘کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے رکن ممالک جنرل اسمبلی کی قراردادوں کی پاسداری کے پابند نہیں ہوتے لیکن یہ قرارادادیں سیاسی اعتبار سے وزن رکھتی ہیں اور عالمی خیالات کی عکاسی کرتی ہیں۔

کچھ سفارت کاروں اور مبصرین نے پیش گوئی کی ہے کہ آج جنرل اسمبلی میں ووٹنگ کو اکتوبر میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کے مطالبے سے زیادہ حمایت حاصل ہو گی۔

یہ ووٹنگ ایسے وقت میں ہورہی ہے جب ایک روز قبل سلامتی کونسل کے 12 سفیروں نے مصر میں رفح بارڈر کراسنگ کا دورہ کیا ہے، یہ واحد جگہ ہے جہاں سے غزہ میں محدود مقدار میں امداد اور ایندھن بھیجا جا رہا ہے۔

رواں برس سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل کے حملوں میں اب تک 18 ہزار 200 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

امدادی ایجنسیوں نے کہا ہے کہ غزہ میں موجود فلسطینیوں میں بھوک کی شدت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

امریکا کی جانب سے سلامتی کونسل میں جنگ بندی کی قرارداد کو ویٹو کرنے کے بعد سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں مزید سیکڑوں شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔

غزہ کی 23 لاکھ آبادی میں سے زیادہ تر افراد بے گھر ہو چکے ہیں، رہائشیوں کا کہنا ہے کہ غزہ میں پناہ یا خوراک تلاش کرنا ناممکن ہو چکا ہے، اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے کہا ہے کہ نصف آبادی بھوک سے مر رہی ہے۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے ذمہ دار اقوام متحدہ کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘پر لکھا کہ بھوک ہر کسی کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔

غزہ کے لوگوں نے کہا کہ بار بار منتقلی پر مجبور لوگ بمباری کے ساتھ ساتھ بھوک اور سردی سے مر رہے ہیں، جو امدادی سامان کی لوٹ مار اور اشیائے ضروریہ کی آسمان چھوتی قیمتوں کا شکوہ کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں