مصر کے عبدالفتح السیسی 89.6% ووٹ لے کر تیسری مرتبہ صدر منتخب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے صدر عبدالفتح السیسی انتخابات میں ایک مرتبہ پھر بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے لگاتار تیسری مرتبہ ملک کے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔

پیر کو الیکشن کمیشن نے سیسی کی انتخابات میں فتح کا اعلان کیا جہاں انہوں نے الیکشن میں 89.6 فیصد ووٹ حاصل کیے اور لگاتار تیسری مرتبہ 6 سال کے لیے ملک کے صدر بن گئے۔

اس الیکشن کے دوران مصری صدر کے 58 ارب ڈالر سے بنائے جا رہے نئے دارالحکومت کو خاص طور پر سراہا جا رہا ہے جہاں اس شہر کو قاہرہ کے مشرق میں بنانے کا سلسلہ جاری ہے، جس کے بارے میں سیسی کا کہنا ہے کہ اس سے ملک کے نئے جمہوریہ کی پیدائش عمل میں آئے گی۔

مصر کے صدارتی انتخابات 10 سے 12 دسمبر تک جاری رہے جس میں سیسی کے مدمقابل تین غیر معروف امیدوار کھڑے ہوئے جنہیں توقعات کے عین مطابق بدترین شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔

مصر کی نیشنل الیکشن اتھارٹی کے سربراہ حازم بدوی نے کہا کہ انتخابات میں 66.8 فیصد افراد نے حق رائے دہی کا استعمال کیا جبکہ 3کروڑ 97 لاکھ لوگوں نے عبدالفتح السیسی کے حق میں ووٹ دیا۔

دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے ریپبلیکن پیپلز پارٹی کے امیدوار حازم عمر کو کُل 4.5 فیصد ووٹ ملے۔

اب سیسی تیسری مرتبہ صدارت کے منصب پر فائز ہوئے ہیں اور ان کی صدارت کی نئے مدت کا آغاز اپریل سے ہوگا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سیسی کی کامیابی خلاف توقع نہیں حالانکہ ان کے دور میں مصر کو تاریخ کے بدترین معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا جبکہ غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کی وجہ سے بھی سرحد پر بے انتہا تناؤ ہے اور بڑی تعداد میں مہاجرین کے آنے سے مصر پر دباؤ پڑنے کا اندیشہ ہے۔

ملک کی کرنسی شدید گراوٹ کا شکار ہے اور سالانہ مہنگائی کی شرح 36.4 فیصد تک پہنچ گئی ہے جس کی وجہ سے خصوصاً نوکری پیشہ افراد شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں