بحیرہ احمر میں حوثی حملے، بھارت نے تیل کے لیے مشرق وسطیٰ کی طرف دیکھنا شروع کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

دنیا میں تیل کی درآمد کے حوالے سے تیسرے بڑے ملک بھارت نے تیل کی درآمد کے لے مشرق وسطیٰ اور قریبی ممالک سے تیل کی درآمد کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ بھارت نے ان کوششوں کو بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کی وجہ سے راستوں کے اخراجات اور فاصلوں میں اضافہ کی وجہ سے شروع کیا ہے۔

ایرانی حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں حملوں میں تواتر کے بعد کئی جہاز ران کمپنیاں اپنے راستے تبدیل کر چکی ہیں۔ تاکہ ڈرون حملوں کی زد میں آنے سے بچ سکیں۔

مگر اس وجہ سے ان کمپنیوں کے کرائے اور اخراجات دونوں بڑھ گئے ہیں جبکہ سفری دورانیہ بھی بڑھ گیا ہے۔ بہت سی کمپنیوں اور ممالک کے جہازوں نے بحیرہ احمر کے بجائے کیپ آف گڈ ہوپ کے راستے سے سفر جاری رکھا ہے۔ تاہم اس سے بحری سفر میں تین ہفتوں کا دورانیہ بڑھ گیا ہے۔

جہازوں کی آمدورفت سے متعلقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ معمول کے دنوں میں بھارت کو تیل کی فراہمی کے لیے بروئے کار رہنے والی کمپنیاں اب بھارت سے ' رسک پریمیم ' برداشت کرنے کے لیے کہہ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا ' بھارتی ریفائینریز اضافی ذمہ داری کو برداشت کرنے لیے تیار نہیں اور متبادل سپلائرز کی تلاش کر رہے ہیں۔'

بھارتی ریفائنریز پریشان ہیں کہ اگر انہوں نے انشورنس اور مال برداری کے اخراجات کا اضافہ قبول کر لیا تو ان کا منافع کم ہو سکتا ہے۔ لیکن ان اخراجات کو بچانے کی کوشش میں اگرگھریلو صارفین کی طلب متاثر نہ ہو گئی تو یہ بھی نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔

ایک کمپنی کے ایک ذمہ دار نے بتایا ہے کہ بھارتی حکومت نے پہلے ہی دوسرے ذرائع سے بھی تیل کا حصول ممکن بنا لیا ہے۔ تاہم اس ذمہ دار نے اس بارے میں تفصیلات دینے سے گریز کیا ہے۔

ایمکے گلوبل فنانشل سروسز لمٹیڈ میں بطور اکانومسٹ وابستہ مدھاوی اروڑا نے اس صورت حال کے سلسلے میں کہا ' بحر اسود کے راستے روسی تیل کی فراہمی اور بہاؤ میں متاثر ہوا مشرق وسطیٰ کے تیل کے لیے زیادہ پریمیم ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مس اروڑا کا مزید کہنا تھا اس ممکنہ صورت حال میں یورپی یونین کے لیے بھارت سے پٹرولیم مصنوعات پر بھی منفی اثر پر سکتا ہے۔ اس بارے میں بھارتی فکر مندی مستقبل کے خطرات کے حوالے سے ہے، اب تک کسی قسم کی کوئی پریشانی سامنے نہیں ائی ہے اور سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں