امریکہ اور برطانیہ بحیرہ احمر کو خون کا سمندر بنانا چاہتے ہیں: طیب ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے جمعے کے روز یمن میں حوثیوں کے مراکز کو نشانہ بنانے پر امریکہ اور برطانیہ دونوں پر الزام عاید کیا ہے کہ دونوں ملک بحیرہ احمر کو خونی سمندر میں تبدیل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ حوثی مراکز پر ان کی بمباری غیر متناسب اور متجاوز ہے۔

نیٹو کے ممبر ملک ترکیہ نے غزہ میں اسرائیلی جنگ اور مسلسل بمباری پر سختی سے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ترکیہ کے صدر طیب ایردوآن حماس کے حامی ہیں۔ جبکہ مغربی ممالک کی طرف سے اسرائیل کی مسلسل مدد کیے جانے پر مذمت کر رہے ہیں۔

صدر طیب ایردوآن سے رپورٹرز نے یمن میں امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے حوثیوں پر بمباری کے بارے میں پوچھا تھا۔ امریکہ اور برطانیہ نے یمن کے اندر یہ بمباری بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کے خلاف کی ہے۔

تاہم ایردوآن نے اس بمباری کو غیر متناسب قرار دیا ہے۔ ایردوآن کے مطابق 'یہ سب بمباری اور طاقت کا غیر متناسب استعمال تھا۔' ایک سوال کے جواب میں صدر نے کہا ' ان دونوں ملکوں کی بمباری کا مطلب ہے کہ یہ دونوں بحیرہ احمر اور یمن کو خون کا سمندر بنانا چاہتے ہیں۔ یہ حوثیوں کے خلاف تمام طاقت استعمال کر رہے ہیں۔ اس پر علاقے میں ضروری جواب دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ انقرہ نے مختلف ذرائع سے سنا ہے کہ حوثیوں نے کامیاب دفاع کیا ہے۔ جبکہ ایران بھی سوچ رہا ہے کہ اس نے کس طرح کے حملوں کا اس نے کیسے دفاع کرنا ہے۔

واضح رہے حوثی پچھلے سال کے آخری مہینوں سے بحیرہ احمر میں اسرائیل آنے جانےوالے جہازوں اور اسرائیل کے حمایوں کو بطور خاص نشانہ بنا رہے ہیں۔ وہ اپنے یہ حملے حماس کی حمایت میں بتاتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں