ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی انتظامیہ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ انقرہ دہشت گردی کے خطرے کو ختم کرنے اور اپنی جنوبی سرحد کے قریب ایک "دہشت گرد ریاست" کے قیام کو روکنے کے لیے پرعزم ہے۔
عراق میں ترک افواج پر کردستان ورکرز پارٹی کے عناصرکے حملے کے بعد ہونے والے اجلاس کے بعد ترک صدر کی انتظامیہ کے بیان میں کہا گیا ہے: "حملے کے بعد شروع ہونے والی کارروائیوں کے دوران 45 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ 36 شمالی عراق میں اور شمالی شام میں 9 کو ہلاک کیا گیا جب کہ کرد عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں‘‘۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "ترکیہ اپنی جنوبی سرحدوں کے قریب دہشت گرد ریاست کے قیام کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔ اپنے دفاع کے حق اور دو طرفہ معاہدوں کے دائرہ کار کے اندر ہماری بنیادی ترجیح دہشت گردی کے خطرے کا حتمی خاتمہ اور اس کی تباہی ہے۔ دہشت گردوں کے کیمپ، پناہ گاہیں ختم کرنا ہیں‘‘۔
قبل ازیں ترک وزارت دفاع نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ انقرہ نے شمالی عراق میں ایک فضائی حملہ کیا جس کے نتیجے میں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی کے 20 ارکان کو "ختم" کر دیا گیا۔ ترک کی ہلاکت کے بعد 29 اہداف کو تباہ کر دیا گیا۔
وزارت دفاع نے ایکس پلیٹ فارم پر ایک بیان میں بتایا کہ فضائی حملوں میں شمالی عراق میں ، متینہ، غرا اور قندیل کے علاقوں میں اہداف پر بمباری کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اہداف میں غار، بنکر، پناہ گاہیں اور تیل کی سہولیات شامل ہیں۔