مشرق وسطیٰ

امریکی سینیٹ میں اسرائیل کے خلاف انسانی حقوق سے متعلق قرارداد مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی سینیٹ نے منگل کے روز ایک قرارداد مسترد کر دی جس کے تحت محکمۂ خارجہ کو 30 دن کے اندر ایک رپورٹ پیش کرنے پر مجبور کیا جائے گا جس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ آیا اسرائیل نے غزہ میں حماس کے خلاف اپنی مہم میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی ہیں؟

جب ووٹنگ جاری تھی تو 54 سینیٹرز نے قرارداد کو ایک طرف رکھنے کے حق میں ووٹ دیا۔ اس طرح یہ 100 رکنی سینیٹ میں آگے نہیں بڑھ سکتی۔

ڈیموکریٹس کے ساتھ مکالماتی نشست کرنے والے آزاد سینیٹر برنی سینڈرز نے قرارداد پر ووٹنگ پر مجبور کیا۔ غزہ جنگ کے فلسطینی شہریوں پر بھاری نقصان کے باوجود اسرائیل کو امریکی ہتھیاروں کی فراہمی پر صدر جو بائیڈن کے کچھ ساتھی ڈیموکریٹس بالخصوص بائیں بازو والوں کی تشویش بڑھ رہی ہے۔ یہ اقدام اسی تشویش کی عکاسی کرتا ہے اگرچہ اسے بآسانی شکست ہو گئی۔

سینڈرز نے ووٹنگ سے قبل ایک تقریر میں قرار داد کی حمایت پر زور دیتے ہوئے کہا، "ہمیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ امریکی امداد کا استعمال انسانی حقوق اور ہمارے اپنے قوانین کے مطابق ہو۔" انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا جسے وہ سینیٹ کی جانب سے شہریوں پر جنگ کے اثرات کا جائزہ لینے والے کسی بھی اقدام پر غور کرنے میں ناکامی قرار دیتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس نے کہا کہ اس نے اس قرارداد کی مخالفت کی تھی جس سے اسرائیل کو سکیورٹی امداد پر شرائط عائد کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی تھی۔

امریکہ اسرائیل کو ہر سال 3.8 بلین ڈالر کی امداد دیتا ہے جس میں لڑاکا طیاروں سے لے کر طاقتور بم تک شامل ہیں جو حماس کی سرنگوں کو تباہ کر سکیں۔ بائیڈن نے کانگریس سے 14 بلین ڈالر کی اضافی منظوری کے لیے کہا ہے۔

سینڈرز کی قرارداد غیر ملکی امداد کے ایکٹ کے تحت دائر کی گئی تھی جو کانگریس کو اجازت دیتی ہے کہ امریکی سکیورٹی امداد حاصل کرنے والے کسی بھی ملک کے بارے میں ریاست کو انسانی حقوق کی رپورٹ اور دیگر معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کرے۔

اگر قرارداد منظور ہو جاتی تو اس کے لیے محکمۂ خارجہ کو 30 دنوں کے اندر کانگریس کو رپورٹ فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی۔ رپورٹ موصول ہونے کے بعد کانگریس ایک اور قرارداد پر غور کر سکتی ہے جس میں اسرائیل کو سکیورٹی امداد میں تبدیلی کی تجویز دی گئی ہو۔

سات اکتوبر کو سرحد پار سے حماس کے حملے میں اسرائیلی اعداد و شمار کے مطابق 1,200 افراد ہلاک ہوئے اور 240 کو یرغمال بنا لیا گیا جس کے بعد اسرائیل نے ایرانی حمایت یافتہ گروپ حماس کے خاتمے کے لیے جنگ کا آغاز کر دیا۔ حماس نے اسرائیل کی تباہی کا حلف اٹھا رکھا ہے۔

غزہ کے صحت کے حکام جن کے اعداد و شمار کو اقوامِ متحدہ نے بڑے پیمانے پر قابلِ اعتماد قرار دیا ہے، نے کہا کہ جنگ میں جو اب چوتھے مہینے میں داخل ہو چکی ہے، منگل تک فلسطینی انکلیو میں جاں بحق افراد کی تعداد 24,285 تک جا پہنچی ہے۔

خدشہ ہے کہ اسرائیلی بمباری کے بعد ملبے سے مزید ہزاروں لاشیں برآمد ہو سکتی ہیں۔

جنگ نے غزہ کے 2.3 ملین میں سے زیادہ تر لوگوں کو ان کے گھروں سے بےگھر کر دیا ہے جن میں سے کچھ کئی بار بےگھری کا شکار ہو چکے ہیں اور یہ خوراک، ایندھن اور طبی سامان کی کمی کے ساتھ ایک انسانی بحران کا باعث بنی ہے۔

بائیڈن انتظامیہ کہتی ہے کہ اس نے شہریوں کی ہلاکتوں کو کم کرنے کے لیے اسرائیل پر زور دیا ہے لیکن اسرائیل کہتا ہے کہ وہ حماس کا صفایا کرنے تک چین سے نہیں بیٹھے گا جبکہ دوسری طرف مزاحمت کاروں کے مزاحمت کے ذرائع کھونے کے کوئی آثار نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں