توہین آمیز تبصروں پر امریکی نوجوان کا 27 خواتین کے خلاف 75ملین ڈالر ہرجانے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی شہرشکاگوسے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان امریکی نے 27 خواتین کے خلاف 75 ملین ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ اس نے یہ مقدمہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’فیس بک‘ پراس کے بارے میں منفی تبصرے پوسٹ کے الزامات پر کیا گیا ہے۔

بتیس سالہ نیکو ڈی ایمبروسیو نے کہا کہ ان کی ساکھ اس وقت داغدار ہوئی جب متعدد خواتین نے اس سے ڈیٹنگ کرنے کا دعویٰ کیا کہ ان کےاس کے ساتھ تجربات منفی تھے۔ ایک نجی فیس بک گروپ کے ذریعےانہوں نے کہا کہ "کیا ہم ایک ہی آدمی سے ملتی رہی ہیں؟"۔ یہ گروپ نیویارک میں قائم کیا گیا تھا لیکن اس کے بعد سےاس کی شاخیں دوسرے شہروں میں پھیلیں۔

خواتین بنیادی طور پر اس گروپ کو مردوں کے ساتھ اپنے تجربات شیئر کرنے اور مشورہ لینے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

ڈی امبروسیو کے ساتھ اپنے تجربات کے بارے میں درجنوں خواتین نے تضحیک آمیز تبصرے لکھے۔ ان تبصروں میں اسے بنیاد پرست، بدسلوکی کا مرتکب اور دیگرالفاظ کا استعمال کیا گیا۔

امریکی مرد کے مقدمے میں مذکورہ فیس بک گروپ اور سوشل نیٹ ورک کی پیرنٹ کمپنی کے ماڈریٹرز کے علاوہ خواتین کو75 ملین ڈالرہرجانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ابتدائی طور پر ایک خاتون نے ڈی ایمبروسیو کے بارے میں فیس بک گروپ پر پوسٹ میں کہا کہ اس نے اسے ڈیٹ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے اس کے پیسے کی دھوکہ دہی کی۔

نيكو دامبروسيو

عورت کے الفاظ نے دوسری خواتین کے اسی طرح کے تبصروں کو جنم دیا جنہوں نے اس کے ساتھ اپنے تجربات کو تفصیل سے بیان کیا۔

ڈی ایمبروسیو نے اعتراف کیا کہ اس نے اس خاتون کو ڈیٹ کیا جس نے اس کے بارے میں پہلا تبصرہ پوسٹ کیا تھا۔ اب وہ مذکورہ فیس بک گروپ میں دیگر خواتین پر اس کے بارے میں جھوٹ پھیلانے کا الزام لگا رہا ہے تاکہ اسے بدنام کرنے کی کوشش کی جا سکے۔

نوجوان کے وکلاء کا کہنا تھا کہ مدعا علیہان کے رویے کے نتیجے میں اسے بدنامی اور رازداری پر حملے کا نشانہ بنایا گیا۔اس لیے وہ بھاری مالی معاوضے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

ڈی ایمبروسیو نے کہا کہ فیس بک گروپ پر ان کی ذاتی تصاویر شیئر کرنا اور متعدد منفی تبصروں کا نشانہ بننا ان کی ذاتی تذلیل، ذہنی اذیت، جذباتی پریشانی، تناؤ، پریشانی اور پیسے کے نقصان کا سبب بنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں