طبی سیاحت تیونس کی متزلزل معیشت کے لیے سہارا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

تیونس کے ایک فرٹیلیٹی کلینک میں بنتو یونسہ کو امید ہے کہ ڈاکٹر بالآخر حاملہ ہونے میں ان کی مدد کر سکتے ہیں -- وہ بیس لاکھ سے زائد غیر ملکیوں میں سے ایک ہیں جو طبی طریقہ کار کے لیے تیونس کا سالانہ سفر کرتے ہیں۔

اگرچہ تیونس کے باشندوں کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے اور ان کی حکومت قرضوں میں ڈوبی ہوئی ہے لیکن طبی سیاحت نے ترقی کی ہے اور حکام منافع بخش شعبے کو مزید وسعت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

نیجر سے تعلق رکھنے والی یونسہ نے بتایا کہ تین سال تک علاج میں ناکامی کے بعد ایک رشتہ دار نے انہیں تیونس کے دارالحکومت میں نجی کلینک کی تجویز پیش کی تھی۔

25 سالہ نوجوان نے اے ایف پی کو بتایا، "تیونس میں تخم ریزی کے بعد میری بھابھی کے جڑواں بچے ہوئے تھے۔ اسی لیے میں نے یہاں آنے کا فیصلہ کیا۔"

ان کے ساتھ ان کی بہن 32 سالہ خدیجہ بھی تھیں جنہوں نے اپنے انڈے پانچ ماہ قبل اسی کلینک میں منجمد کرائے تھے جو طبی علاج سے تولید میں مہارت رکھتا ہے۔

وزارتِ صحت کی ایک اہلکار نادیہ فینینا نے کہا تیونس کے انتہائی خصوصی نجی کلینک اور ہنر مند عملے کی بدولت یہ طبی سیاحت کا ایک اہم مقام بن جاتا ہے۔

فینینا نے اے ایف پی کو بتایا، "صحت کی نگہداشت کی طلب و رسد کے لحاظ سے تیونس افریقہ میں پہلے نمبر پر ہے۔"

طبی سیاحت کورونا وائرس کے دور کے تعطل کے بعد دوبارہ بحال ہو گئی ہے اور یہ شعبہ سالانہ تقریباً 3.5 بلین دینار (1.1 بلین) کی آمدن پیدا کرتا ہے –جو گذشتہ سال تیونس کی سیاحت کی مجموعی آمدنی کا تقریباً نصف ہے۔

فینینا نے کہا، "طبی سیاحت کا تعلق عام سیاحت کے شعبے سے ہے کیونکہ ایک غیر ملکی مریض بھی ایک سیاح ہوتا ہے جو عام طور پر تنہا نہیں آتا۔"

انہوں نے مزید کہا، مجموعی طور پر "طبی سیاحت کا فروغ سیاحت کے شعبے کی ترقی پر منحصر ہے"۔

تیونس کی مجموعی گھریلو پیداوار کے نو فیصد کے حساب سے قرضوں میں ڈوبے ہوئے ملک کے لیے سیاحت بہت اہم ہے جہاں کی معیشت سست روی کا شکار ہے اور عالمی بینک کے اندازے کے مطابق 2023 کے لیے شرحِ نمو معمولی 1.2 فیصد ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال 12 ملین افراد پر مشتمل بحیرۂ روم کے چھوٹے سے ملک نے تقریباً نو ملین سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

حکام کہتے ہیں کہ ان میں تیونس میں ہسپتال میں داخل 500,000 سے زیادہ غیر ملکی مریض اور تقریباً 20 لاکھ دیگر شامل تھے جنہوں نے اسی دن کی طبی نگہداشت حاصل کی تھی۔

آرام کرنے کا موقع

ڈاکٹر فیتحی زیوا نے کہا کہ تیونس کے کلینک میں جہاں یونسہ کا علاج کیا گیا تھا، گذشتہ سال 450 مریض ان وٹرو فرٹیلائزیشن کے لیے آئے تھے جن میں سے اکثر کا تعلق سب صحارا افریقی ممالک سے تھاجہاں کچھ علاج شاید دستیاب نہیں یا ان تک رسائی مشکل ہے۔

ارزاں نرخوں اور تیونس کے "عالمی شہرت یافتہ زرخیزی کے ماہرین" کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر نے کہا، دیگر افراد شمالی افریقہ میں اور جگہوں کے ساتھ ساتھ برطانیہ، سوئٹزرلینڈ اور کینیڈا جیسے مغربی ممالک سے آئے تھے

فینینا نے کہا، بہت سے یورپی طبی سیاح کاسمیٹک سرجری کے لیے آتے ہیں جو تیونس میں غیر ملکیوں کے تمام علاج کے 15 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔

لیبیا کے ایک 59 سالہ فرد محمد جنہوں نے صرف اپنا پہلا نام بتایا، ایک آپریشن کے بعد باقاعدگی سے چیک اپ کے لیے اپنے کارڈیالوجسٹ سے ملنے سال میں دو بار تیونس آتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "اس ڈاکٹر نے میری جان بچائی، میں اسے کبھی نہیں بدلوں گا۔"

محمد نے کہا، اپنی بیوی کے ساتھ سفر کرتے ہوئے جوڑے نے اس دفعہ کے دورے میں تیونس کے شمال مغربی ساحل پر واقع ایک قصبے "تبرکہ میں کچھ دن آرام سے گزارنے" کا منصوبہ بنایا۔

فینینا نے کہا، تیونس میں سیاحت کے "مضبوط مواقع" ہیں اور "اگر ہم کچھ رکاوٹوں اور حدود پر قابو پا لیں" تو اس میں اضافہ ہو سکتا ہے

انہوں نے کہا، مزید افریقی مقامات کے لیے براہِ راست پروازیں اور ویزا کے آسان طریقہ کار سے مدد مل سکتی ہے، "اسی وجہ سے ہم میڈیکل ویزا نافذ کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

وزارتِ صحت طبی سیاحت کی ایجنسیوں، صحت کی نگہداشت فراہم کرنے والوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پر بھی کام کر رہی ہے اور نجی شعبے کے ساتھ مل کر بزرگ یورپی صارفین کے لیے تیار کردہ سہولیات قائم کر رہی ہے۔

جبکہ ملک میں مہاجر مخالف جذبات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی نشان دہی تشدد اور گذشتہ سال صدر کی جانب سے افریقیوں کے "ہجوم" کی ایک خطرے کے طور پر عکاسی کرنے والے اشتعال انگیز ریمارکس سے ہوئی ہے لیکن یونسہ نے کہا کہ وہ تیونس میں اپنائیت محسوس کر رہی تھیں۔

انہوں نے کہا، "میں یہاں گھر جیسا محسوس کر رہی ہوں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں