امریکہ کی طرف سے کئی مزید کمپنیوں پر پابندیاں لگانے کا بدھ کے روز اعلان کیا گیا ہے۔ ان میں سے دو کمپنیاں لبنان میں قائم ہیں جبکہ ایک کمپنی کا ترکیہ سے ہے۔ ان کمپنیوں پر الزام ہے کہ یہ لبنانی ملیشیا حزب اللہ اور ایرانی پاسداران انقلاب کور کی قدس فورس کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔
امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے اس بارے میں کہا 'ایرانی پاسداران انقلاب کور اور قدس فورس اور ان کے پراکسی نیٹ ورکس کمپنیوں سے رقوم حاصل کرکے اسے اپنی غیر قانونی سرگرمیوں اور دہشت گردی کے لیے استعمال کرتی ہیں۔'
امریکی وزارت خزانہ کے انڈر سیکرٹری برائے دہشت گردی نے زیر پابندی آنے والی نئی کمپنیوں کے بارے میں کہا یہ کمپنیاں شامی اور ایرانی اشیاء کی فروخت سے کروڑوں ڈالر کی آمدنی حاصل کر کے پراکسی دہشت گرد گروپوں پاسداران انقلاب اور قدس فورس استعمال کرتی ہیں، اب ان پر لگائی گئی پابندیاں ہمارے اس عزم کو واضح کرتی ہیں جو ہم بین الاقوامی تجارتی نظام کے استحصال کو روکنے کے لیے رکھتے ہیں۔
امریکی وزارت خزانہ کے سینئر ذمہ دار نے رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا ' واشنگٹن توقع کرتا ہے عراق کی حکومت ملک میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کی مالی معاونت کی نشاندہی کرنے اور اس میں خلل ڈالنے کے لیے مدد کرے گی۔'