امریکہ نے ہلاک فوجیوں کی تدفین تک اردن حملے کا جواب دینے کا انتظار کیوں کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق اور شام میں مسلح ملیشیاؤں کے خلاف امریکی حملوں کے بارے میں اب بھی نئی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق واشنگٹن اردن میں ہلاک اپنے فوجیوں کی تدفین اور آخری رسومات کی ادائی تک اس حملے کا جواب دینے میں تاخیر کی۔

اردن میں ایک اڈے پر حملے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے پانچ دن بعد واشنگٹن نے کل جمعہ کو اردن میں اپنے تین فوجیوں کی ہلاکت اور چالیس کے زخمی ہونے کا جواب دیا۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ دوسروں نے آپریشن کے وقت کو مالیاتی منڈیوں اور معاشی افراتفری سے بچنے کی کوشش قرار دیا۔

ایسا لگتا ہے کہ امریکی حملے کے مناظر ابھی تک سامنے نہیں آئے ہیں کیونکہ اس میں تاخیر قابل ذکر تھی لیکن اس پر عمل درآمد کے وقت کے حوالے سے دیگر تحفظات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

امریکی صدر جو بائیڈن ڈیلاویئر کے ڈوور بیس سے اردن میں امریکی اڈے پر ہلاک ہونے والے تین فوجیوں کی لاشوں کے اعزاز میں ایک تقریب کے دوران نمودار ہوئے۔

تقریب میں اداس موسیقی کی آمیزش کی خاموشی چھائی ہوئی تھی اور ایک گھنٹہ پینتیس منٹ بعد بھی یہ خاموشی نہیں ٹوٹی تھی جب شام اور عراق میں آدھے گھنٹے تک جاری رہنے والی حملوں کی ابتدائی لہر چلی۔

امریکی صدر نے کہا کہ "ہمارا ردعمل آج سے شروع ہوا۔ یہ ہمارے منتخب کردہ وقت اور جگہوں پر جاری رہے گا۔ ہر وہ شخص جو ہمیں نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتا ہے اسے بتادیں اگر آپ کسی امریکی کو نقصان پہنچاتے ہیں تو ہم جواب دیں گے"۔

واشنگٹن کا انتظار سرکاری تقریب کے اختتام اور مالیاتی منڈیوں کے اختتام تک جاری رہا تاکہ کسی بھی قسم کے اثرات یا الجھنوں سے بچا جا سکے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں نے العربیہ کو بتایا کہ گذشتہ جنوری میں اربیل پر حملے کے بعد مبصرین نے اسے اسٹاک کی تیز فروخت اور معاشی نقصانات سے جوڑ دا جو کہ بڑے پیمانے پر جنگ کے خدشے کے باعث بنا۔

حملے کا اعلان کرنے میں بائیڈن کی تاخیر تیل کی قیمتوں میں کسی بھی چھلانگ کو جذب کرنے کی وجہ سے تھی کیونکہ پچھلے حملوں کے بعد خام تیل کی قیمت 83 ڈالر فی بیرل سے اوپرچلی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں