اگرچہ قطر میں امریکہ اور افغان طالبان تحریک کے درمیان مذاکرات ہوئے کئی ماہ گزر چکے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ افغانستان میں تحریک کے ہاتھوں متعدد امریکی قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے بالآخر ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔
باخبر ذرائع نے اتوار کے روز العربیہ/الحدث کو انکشاف کیا کہ امریکہ نے القاعدہ کے سابق رہ نما اسامہ بن لادن کے افغان معاون کی رہائی کے بدلے ایک امریکی قیدی کے بدلے طالبان کے ساتھ تبادلے کا معاہدہ کیا ہے۔
ان ذرائع نے وضاحت کی کہ امریکہ نے طالبان کی جیلوں میں قید امریکی قیدی ریان کاربیٹ کی رہائی کے بدلے محمد رحیم افغانی جو بن لادن کے معاون خصوصی کے طور پر کام کرتے تھے ایک اور افغان قیدی کی رہائی پر رضامندی ظاہر کی۔
توقع ہے کہ تبادلے کے معاہدے پر آج سوموار کو عمل درآمد ہوجائے گا۔
الظواہری کے ہیڈ کوارٹر کا انکشاف
طالبان انٹیلی جنس نے 10 اگست 2022ء کو کابل میں القاعدہ کے رہ نما ایمن الظواہری کی ہلاکت کے چند دن بعد کاربیٹ کو گرفتار کیا تھا۔
جہاں تک اس کی گرفتاری کی وجہ ہے العربیہ کے نجی ذرائع کے مطابق اس پر امریکہ کے لیے جاسوسی کا الزام ہے۔ طالبان کا خیال ہےکہ امریکی جاسوس نے الظواہری کے ٹھکانے کی جاسوسی کی تھی۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ بن لادن کے معاون کو پاکستانی فورسز نے 2007ء میں لاہور شہر میں ایک عوامی بس میں سوار ہوتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔
اس کے بعد انہیں 2008 میں مشہور گوانتانامو جیل منتقل کر دیا گیا۔
2 اگست 2022 کو امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا کہ امریکی فوج نے الظواہری کو کابل میں ہلاک کر دیا تھا۔