اسرائیلی حملے نے غزہ کو موت کی وادی بنا دیا ہے: ہالینڈ میں سعودی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ہالینڈ میں متعین سعودی عرب کے سفیر زیاد بن معاشی العطیہ کا کہنا ہے ’’کہ فلسطینی اراضی میں اسرائیلی اقدامات کا کوئی جواز نہیں۔‘‘

دی ہیگ میں عالمی عدالت انصاف کے سامنے اپنی بریفنگ میں زیاد العطیہ نے کہا کہ ’’مسلسل اسرائیلی قبضے کے سنگین نتائج سامنے آئے ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’دنیا اس بات پر متفق ہے کہ اسرائیلی قبضہ غیر قانونی ہے۔‘‘

خادم الحرمین الشریفین کے سفیر نے کہا کہ اسرائیل میں یہودی آبادیوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ تل ابیب یہودی آبادکاروں کے فلسطینیوں پر حملوں سے اغماض برتنے کی روش پر عمل پیرا ہے۔‘‘

زیاد العطیہ نے اسرائیل پر فلسطینیوں کو غیر انسانی سلوک اور ان کے خلاف نسل کشی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے عالمی برادری سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔

سات لاکھ یہودی آبادکار

عالمی عدالت کے سامنے اپنی بریفنگ میں سعودی سفیر کا کہنا کہ اس وقت مقبوضہ علاقوں میں یہودی آبادکاروں کی تعداد سات لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جو دنیا بھر سے لا کر وہاں آباد کیے گئے ہیں۔ اسرائیل سمجھتا ہے کہ اسے بین الاقوامی قانون میں تحفظ حاصل ہے۔‘‘

انہوں نے اس بات کا خصوصیت سے ذکر کیا کہ اسرائیل دو ریاستی حل کو مسترد کر کے دراصل فلسطینیوں کو ان کے عالمی طور پر تسلیم کردہ حق سے محروم کرنا چاہتا ہے۔

غزہ سے بیدخلی اور قتل کی دھمکیاں

زیاد العطیہ نے کہا کہ اس وقت اسرائیل نے غزہ کی پٹی کو زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم کر رکھا ہے۔ ہم بے گناہ اہل غزہ کے قتل اور ان کی بے دخلی کے لئے کسی بھی جواز اور بہانے کر درست نہیں سمجھتے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار کھلے عام فلسطینیوں کو غزہ میں قتل اور بیدخلی کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

عدالت کے دائرہ اختیار کے بارے میں زیاد العطیہ نے زور دے کر کہا کہ اس کے دائرہ اختیار کے خلاف دلائل کمزور ہیں اور انہوں نے عالمی عدالت پر زور دیا کہ وہ اس معاملے پر رائے جاری کرے۔

سعودی عرب کی طرف سے اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کے مطالبوں اور عارضی اقدامات کو نظر انداز کرنے کے ساتھ ساتھ غیر قانونی یہودی بستیوں میں توسیع اور فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کی بھی مذمت کی گئی۔

واضح رہے کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے قانونی اثرات سے متعلق عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں منگل کو اوورل پروسیڈنگ (زبانی کارروائی) کے دوسرے دن بھی سماعت جاری رہی۔

سماعت کے دوسرے روز جنوبی افریقہ، الجزائر، سعودی عرب، نیدرلینڈز، بنگلہ دیش اور بیلجیئم کے نمائندوں نے ابتدائی دلائل پیش کیے ہیں جبکہ پاکستان اپنے دلائل 23 فروری کو ہونے والی سماعت میں پیش کرے گا۔

یہ عالمی عدالت انصاف کی تاریخ کا سب سے بڑا مقدمہ ہے جس میں 50 سے زیادہ ممالک دلائل دے رہے ہیں اور کم از کم تین بین الاقوامی تنظیمیں بھی 26 فروری تک ججز کے سامنے اپنے دلائل رکھیں گی۔

اسرائیل اس سماعت میں شریک نہیں ہے لیکن اس نے پانچ صفحات پر مشتمل تحریری بیان بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عدالت کی مشاورتی رائے تنازع کو حل کرنے کی کوششوں کے لیے ’نقصان دہ‘ ہو گی۔ اس کا اصرار ہے کہ جنرل اسمبلی کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات ’تعصب پر مبنی‘ ہیں۔

ججز کی جانب سے غور و خوص کے بعد مقدمے کا فیصلہ اگلے چند مہینوں میں متوقع ہے۔ تاہم عدالت کے پاس اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کرانے کی طاقت نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں