سپاہ پاسدارانِ انقلاب کے قائدین اور ماہرین صنعاء پہنچ گئے ہیں: یمنی وزیر اطلاعات
حوثی شراکت دار یا اتحادی نہیں بلکہ سرحد پار فوجی نظام کے تحت کام کرنے والے آلہ کار ہیں: معمر الاریانی
یمنی وزیرِ اطلاعات معمر الاریانی نے انکشاف کیا ہے کہ دہشت گرد حوثی ملیشیا کے زیرِ قبضہ دارالحکومت صنعاء میں گزشتہ ہفتے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مزید ماہرین پہنچے ہیں۔ معمر الاریانی نے پلیٹ فارم ’’ ایکس ‘‘ پر اپنی ٹویٹس میں کہا کہ ہم تصدیق کرتے ہیں کہ حالیہ کشیدگی کے ساتھ ہی گزشتہ ہفتے پاسدارانِ انقلاب کے مزید قائدین اور ماہرین صنعاء پہنچے ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک بار بار اپناایا جانے والا طرزِ عمل کا حصہ ہے جو براہِ راست نگرانی کی سطح اور فیصلوں کی نوعیت کی عکاسی کرتا ہے۔
یمنی عہدیدار نے ایرانی نظام کے مشن کو ایک مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول کے اصول پر مبنی قرار دیا جسے ایرانی پاسدارانِ انقلاب چلاتے ہیں جو منصوبہ بندی، رہنمائی اور کارروائیوں کی رفتار اور راستہ متعین کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ لوگ اب بھی اس خیال کی تشہیر کر رہے ہیں یا یہ سمجھتے ہیں کہ حوثی ملیشیا نام نہاد مزاحمتی بلاک کے اندر ایک نیم خود مختار اکائی ہے جو مقامی حساب کتاب یا ایران کے ساتھ شراکت داری اور مفادات کے تابع ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ مطالعہ اس گروہ کی اصل ساخت اور نوعیت کو نظر انداز کرتا ہے۔
یمنی وزیرِ اطلاعات نے اس بات پر زور دیا کہ حوثی کوئی شراکت دار یا اتحادی نہیں بلکہ ایک سرحد پار فوجی نظام کے اندر عمل درآمد کا آلہ کار ہے، جو پاسدارانِ انقلاب کے زیرِ انتظام مرکزی کمانڈ کے اصول پر کام کرتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس حقیقت کو نظر انداز کرنا نہ صرف صورتحال کے غلط اندازے کا باعث بنتا ہے بلکہ تہران کے نظام کو اپنا اثر و رسوخ گہرا کرنے اور خطرے کا دائرہ بڑھانے کے لیے مزید گنجائش فراہم کرتا ہے۔
گزشتہ روز ہفتے کو حوثی ملیشیا نے اسرائیل کی طرف پہلا بیلسٹک میزائل داغنے کے بعد باضابطہ طور پر ایران کے ساتھ جنگ میں شامل ہونے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان اسرائیلی فوج کی جانب سے یمن سے داغے گئے میزائل کا سراغ لگانے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا۔ اس سے قبل ایرانی رہنماؤں نے دھمکی دی تھی کہ اگر ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کشیدگی جاری رہی تو بحیرہ احمر کا محاذ کھول دیا جائے گا اور باب المندب کو بند کر دیا جائے گا۔