سویڈش پولیس نے کہا ہے کہ ملک میں تقریباً 62,000 افراد جرائم پیشہ نیٹ ورکس میں سرگرم ہیں یا ان سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پولیس تشدد پر قابو پانے کے لیے برسوں سے جدوجہد کر رہی ہے۔
10 ملین کی آبادی والے ملک میں پچھلی دہائی کے دوران فائرنگ کے واقعات کی تعداد میں تین گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ یہ اس وقت پڑوسی ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ جرائم کی سطح کا مشاہدہ کر رہا ہے۔
نیشنل پولیس کمشنر پیٹرا لنڈ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ "ہم نے مجرمانہ نیٹ ورکس میں سرگرم 14,000 لوگوں کی نشاندہی کی ہے۔ جہاں تک ان نیٹ ورکس سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا تعلق ہے، ہمارا اندازہ ہے کہ ان کی تعداد 48,000 تک ہے"۔
انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ 2023ء میں اگرچہ مہلک فائرنگ کی تعداد میں قدرے کمی آئے گی، لیکن ابتدائی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سویڈن میں ناروے، ڈنمارک اور فن لینڈ کی مشترکہ فائرنگ سے نو گنا زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں"۔
اس کے ساتھ ہی دھماکہ خیز مواد سے ہونے والے حملوں کی تعداد اب تک کی سب سے زیادہ تھی۔
گذشتہ سال ستمبر میں فائرنگ کے 11 واقعات پیش آئے اور 2019 کے بعد سویڈن میں یہ مہلک ترین مہینہ تھا۔
-
سویڈن میں اسرائیلی سفارت خانے کے نزدیک دھماکہ خیز ڈیوائس برآمد
سٹاک ہوم میں سویڈش بم سکواڈ نے اسرائیلی سفارت خانے کے قریب سے ملنے والی مبینہ ...
بين الاقوامى -
ترکیہ نے سویڈن کی نیٹو میں بطور رکن شمولیت کی توثیق کر دی
انقرہ کی توثیق کے بعد اب سویڈن کے مغربی فوجی اتحاد میں شامل ہونے کی راہ میں صرف ...
بين الاقوامى -
حماس سویڈن میں ہمارے سفارت خانے پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے: اسرائیل
اسرائیل نے مغربی ملکوں میں حماس کے خلاف مہم کی تیزی کے پیش نظر الزام لگایا ہے کہ ...
مشرق وسطی