فٹ بال اسٹیڈیم شکست کے بعد میدان جنگ میں تبدیل ہوگیا
اس نوعیت کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل سیزن میں ترک لیگ کو تشدد کے بعد پورے ایک ہفتے کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔
ترکیہ میں ایک فٹ بال اسٹیڈیم اس وقت میدان جنگ میں تبدیل ہوگیا جب ایک ٹیم کے شائقین اور حریف ٹیم کے کھلاڑی شکست کے بعد آپس میں گتھم گتھا ہوگئے۔
اتوار کو ٹرابزنسپور اور فینرباہس کی ٹیموں کے درمیان میچ کے اختتام کے بعد، ٹرابزنسپور کے شائقین نے میدان میں دھاوا بول دیا جب کہ فینرباہس کے کھلاڑی فتح کا جشن منا رہے تھے۔
ویڈیو مناظر میں دکھایا گیا ہے کہ ٹرابزنسپور کا ایک پرستار میدان میں داخل ہوتا ہے اور تیزی سے جشن منانے والے کھلاڑیوں کی طرف بڑھتا ہے، جن میں سے کچھ اس کی طرف بھاگے اور اسے مارا۔ بعض دیگر نے بھی دھاوا بولنے کی کوشش کی جن پر سیکورٹی حکام نے قابو پا لیا۔
Embarrassing behaviour from fans in Turkey. Trabzonspor fans attacked Fenerbahce players, with Livaković being one of the victims.
— 🇭🇷 (@TheCroatianLad) March 17, 2024
An unknown object was thrown at Livaković and then someone punched him.
Speedy recovery Dominik! 🚨pic.twitter.com/cxXgv29K0y
ویڈیو مناظر میں دیکھا گیا کہ بیلجیئم کے بین الاقوامی کھلاڑی باتشوائے نے اسٹیڈیم میں داخل ہونے والے شخص کو لات ماری، جب کہ نائجیریا کے کھلاڑی برائٹ اوسائی-سیموئیل نے دوسرے مداح کو مکے مارے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی دیگر فوٹیج میں، ایک مداح فینرباہس کے ایک کھلاڑی کو دھمکیاں دیتے ہوئے نظر آیا، اور دوسرے نے مہمان ٹیم کے گول کیپر، کروشین ڈومینک لیواکووچ کے چہرے پر مکے مارے۔
ایکس پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں ترک وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے واقعے کی تحقیقات شروع کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ "فٹ بال کے میدانوں پر تشدد کے واقعات مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں۔"
Damn pic.twitter.com/vX4E8gPuXp
— ~ Kay Parker (@su_pre_mo) March 17, 2024
اس سیزن میں یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ ترک لیگ میں تشدد کی کارروائیوں کا مشاہدہ کیا گیا ہو، جیسا کہ اس سے قبل لیگ کو گذشتہ دسمبر میں انکارگوکو اور ریزسپور کے درمیان میچ کے ریفری پر حملہ کرنے کے بعد پورے ایک ہفتے کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔
اس کے بعد انکاراگوکو کلب کے صدر فاروق کوڈجا نے ایک گروپ کے ساتھ مل کر میچ کے بعد میدان میں موجود ریفری حلیل اموت ملر پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں وہ زخمی ہوگئے۔