اسرائیل کوفلسطینیوں کی نسل کشی کامرتکب قرار دینے پراقوام متحدہ کی نمائندہ کو دھمکیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کی ماہر فرانسسکا البانی کو اس وجہ سے دھمکیاں ملی ہیں کہ انہوں نے اسرائیل کو حماس کے ساتھ جنگ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا مرتکب قرار دیا ہے۔ فرانسسکا البانی نے یہ بات بدھ کے روز بیان کی ہے۔ البانی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے سلسلے میں خصوصی نمائندے کے طور پر تعینات ہیں۔

ان کا دائرہ کار مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں انسانی حقوق کی صورت حال مانیٹرنگ کے حوالے سے ہے۔ انہوں نے اس بارے میں ایک تازہ رپورٹ مرتب کی ہے، جس میں اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی کا مرتکب قرار دیا ہے۔ اسرائیل نے اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔

البانی سے پوچھا گیا تھا' اسرائیل کے بارے میں رپورٹ مرتب کرنے پر انہیں دھمکیاں ملی ہیں ۔؟' انہوں نے کہا ' ہاں مجھے دھمکیاں ملی ہیں۔ مگر میں نے اب تک ان کا کوئی دباؤ قبول نہیں کیا ہے۔ کہ میں ان دھمکیوں کو اپنے یا کام کے نتائج پر اثر انداز ہونے دیتی۔'

واضح رہے البانی 2022 سے اس اہم عہدے پر تعینات ہیں اور انسانی حقوق کی مانٹرنگ کے لیے اقوام متحدہ کے نمائندے کے طور کام کر رہی ہیں۔ تاہم انہوں نے دھمکیوں کے حوالے سے اسرائیل کا نام لے کر نہیں کہا ہے کہ یہ دھمکیاں اسرائیل کی طرف سے ملیں۔

البانی نے کہا ' یہ ایک مشکل وقت رہا ہے، میرے اس کام کے آغاز کے ساتھ ہی مجھے حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔' ان کی فلسطینیوں کی اسرائیل کے ہاتھوں نسل کشی کی رپورٹ پر اسرائیل ان پر الزام لگایا کہ وہ اسرائیلی ریاست کے قیام اور وجود کو چیلنج کر رہی ہیں۔' تاہم البانی نے اسرائیل کے الزام کی تردید کی ہے۔

فرانسسکا البانی نے ان کی مرتب کردہ رپورٹ کا حاصل یہ ہے کہ اسرائیلی کی فوجی و انتظامی قیادت کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوجیوں نے جان بوجھ کر نسل کشی کے لیے تشدد کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش کی ہے اور اسے اپنے تحفظ کا نام دیا۔'

اس لیے میں کہہ سکتی ہوں کہ اس امر کو بے نقاب کیے جانے سے جو چیز سامنے آئی ہے وہ اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کی پالیسی ہے۔' تاہم جنیوا میں اسرائیلی سفارتی مشن نے نسل کشی کے لفظ کو استعمال کرنے کو اسرائیل کے خلاف اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں