تہران کے اسرائیل پر حملے کے بعد ایران کے ہوائی اڈے دوبارہ کھل گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سرکاری میڈیا نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے ہوائی اڈے کے مسافر ٹرمینل پر فضائی حملے کی وجہ سے عارضی تعطل کے بعد تہران اور ایران کے دیگر مقامات پر ہوائی اڈوں نے پیر کو دوبارہ کام شروع کر دیا۔ اس تعطل سے علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

ہفتے کے آخر میں ایران کی جانب سے اسرائیلی سرزمین پر پہلا براہِ راست حملہ ہوا جس کے بعد پروازیں معطل کر دی گئی تھیں۔ یکم اپریل کو دمشق میں تہران کے قونصل خانے پر ایک ہلاکت خیز فضائی حملہ کیا گیا جس کی ذمہ داری بڑے پیمانے پر اسرائیل سے منسوب کی گئی تھی۔ اس کے جواب میں ہونے والے ایرانی حملے میں ڈرونز اور میزائل استعمال کیے گئے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے نے اطلاع دی کہ "تہران کے امام خمینی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر صبح 6:00 بجے (0230 جی ایم ٹی) تک پروازیں معمول پر آ گئیں۔"

آئی آر این اے نے کہا، تہران کا ملکی پروازیں لے جانے والا مہرآباد ہوائی اڈہ اور ملک بھر میں دیگر ہوائی اڈے بشمول شمال مغرب میں تبریز، شمال مشرق میں مشہد اور جنوب میں شیراز سبھی "طے شدہ معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔"

ایرانی حملے اور ممکنہ اسرائیلی انتقامی کارروائی کے خدشے کی وجہ سے کچھ ایئر لائنز نے خطے کے لیے پروازیں معطل کر دی ہیں۔

اسرائیل نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ اس کا ردِعمل کیا ہو سکتا ہے۔

جرمن ایئرلائن لفتھانزا نے ایران آنے اور جانے والی اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں جبکہ آسٹریلیا کی ایئرلائن کنٹاس سمیت دیگر نے ایران کی فضائی حدود سے گریز کرنے کے لیے طیاروں کا راستہ تبدیل کر دیا ہے۔

اس حملے نے مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک بشمول اردن، لبنان اور عراق کو ہفتے سے اتوار تک راتوں رات اپنی فضائی حدود بند کر دینے پر مجبور کر دیا لیکن سبھی دوبارہ کھل گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں