ہفتے کے آخر میں ایران کے فضائی حملے کی وجہ سے سکول بند کرنے کا حکم دینے کے بعد فوج نے اعلان کیا کہ پیر کو پورے اسرائیل میں سکول دوبارہ کھلنے کے لیے تیار تھے۔
فوج نے کہا کہ ایران نے ہفتے کی رات اسرائیلی سرزمین پر 300 سے زیادہ میزائل اور ڈرون داغے جن میں سے زیادہ تر کو اسرائیل اور اس کے اتحادیوں نے روک دیا۔
یہ حملہ جس نے اسرائیل اور ایران کے درمیان ہمہ گیر جنگ کے خدشات پیدا کر دیئے ہیں، اس کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان تو نہیں ہوا البتہ 12 افراد زخمی ہوئے۔
صورتِ حال کے جائزے" کے بعد فوج نے پیر کے اوائل میں ایک بیان میں کہا، "اسرائیل میں تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا"۔
یہ کہتے ہوئے کہ زیادہ تر مقامات پر بڑے اجتماعات پر پابندیاں بھی ہٹا دی جائیں گی، بیان میں مزید کہا گیا، "شمالی سرحد کے علاقوں (لبنان کے ساتھ) اور غزہ کی پٹی کے قریب کمیونٹیز میں تعلیمی سرگرمیاں پابندیوں کے ساتھ دوبارہ شروع ہو جائیں گی۔"
ہفتے کے روز تہران کا حملہ اسرائیل کے فضائی حملے کا بدلہ تھا جس نے دمشق میں ایرانی قونصلر کی عمارت کو تباہ کر دیا تھا اور پاسدارانِ انقلاب کے سات اہلکار ہلاک ہوئے تھے جن میں دو جنرل بھی شامل تھے۔