آسٹریلیا میں حکام نے بتایا ہے کہ پیر کو مغربی سڈنی میں چرچ کی خدمت کے دوران چاقو سے وار کیے جانے کے بعد چار افراد معمولی زخمی ہوئے ہیں۔
یہ واقعہ مشرقی سڈنی کے ایک مال میں چاقو سے حملے کے صرف دو دن بعد پیش آیا ہے جس میں 6 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
لائیو فوٹیج میں دکھائے گئے حملے میں شہر کے مغرب میں ایک آشوری چرچ میں ایک اجتماع کے دوران پادری کو چاقو گھونپنے کا خوفناک منظر دکھایا گیا ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملزم نے اپنا دایاں بازو اٹھایا اور پادری کو چاقو سے وار کیا، جس سے عبادت گذاروں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور انہوں نے چیخنا شروع کر دیا۔
ظهر وهو يتحدث اللغة العربية.. لحظة السيطرة على منفذ عملية طعن الكاهن في كنيسة #سيدني بأستراليا#العربية pic.twitter.com/qcynrsuon9
— العربية (@AlArabiya) April 15, 2024
اس دوران بہت سے لوگ مدد کے لیے دوڑ پڑے۔
ایمبولینس سروس نے اے ایف پی کو بتایا کہ 20 سے 70 سال کی عمر کے چار افراد کے زخمی ہونے کے بعد ان کا علاج کیا جا رہا ہے۔
مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ چرچ آف دی گڈ شیفرڈ میں پیش آیا۔
ابھی تک حملے کی تفصیلات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے لیکن مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ حملہ آور کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جب کہ لوگوں کا بڑا ہجوم وقوعہ پر موجود تھا۔
لحظات مرعبة.. فيديو يظهر تعرض المطران مار ماري عمانوئيل لعملية طعن من قبل شخص مجهول خلال بث مباشر على الهواء من الكنيسة الآشورية الآرامية في غرب مدينة #سيدني الاسترالية#العربية pic.twitter.com/pUzdwHHbaw
— العربية (@AlArabiya) April 15, 2024
چاقو کے حملے کو چرچ کے فیس بک اکاؤنٹ پر براہ راست نشر کیا گیا تھا، جہاں فوٹیج میں دکھایا گیا تھا کہ فادر میری ایمینوئل کو آشوری بائبل پر خطبہ دیتے ہوئے چہرے پر چاقو سے حملہ کیا گیا۔
چار زخمیوں میں ایک شخص پچاس سال کی عمر کا ہے، دوسرا تیس سال کا۔ یک کی عمر بیس سال اور ایک ساٹھ سال کی عمر کا بتایا جاتا ہے۔
آسٹریلوی پولیس نے واقعے کے بعد ایک شخص کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے۔