مشرق وسطیٰ

کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، اسرائیل ایران پر حملے سے گریز کرے: رشی سونک

فون سننے سے انکار کے بعد نیتن یاھو کی اپنے برطانوی ہم منصب رشی سونک سے فون پربات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی وزیر اعظم رشی سونک نے اپنے اسرائیلی ہم منصب بنجمن نیتن یاھو سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے پر زور دیا۔

رشی سونک نے سوموار کے روز بھی اسرائیلی وزیر اعظم کو فون کیا تھا تاہم نیتن یاھو نے ان کی کال وصول نہیں کی۔ کل منگل کو انہوں نے دوبارہ فون کیا اور انہیں یقین دلایا کہ برطانیہ اسرائیل کی سلامتی اور حفاظت کے لیے ہر ممکن مدد جاری رکھے گا۔

فون پر بات کرتے ہوئے رشی سونک نے کہا کہ کشیدگی میں اضافہ کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور یہ مشرق وسطیٰ میں عدم تحفظ کا باعث بنے گا۔

اسرائیل کے ’کے اے این‘ چینل کی رپورٹ کے مطابق ان دنوں کے دوران بہت سے عالمی رہ نماؤں نے نیتن یاہو سے فون کال کرنے کی کوشش کی لیکن ان کے دفتر نے ایرانی حملے کے پس منظر میں انہیں وصول کرنے سے انکار کر دیا۔ ان میں سے زیادہ تر رہ نماؤں نے اسرائیل سے تہران کو جواب نہ دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

محدود جواب

اس سے قبل چار امریکی حکام نے اشارہ دیا تھا کہ ہفتے کے آخر میں اسرائیلی ردعمل آ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محدود ہو گا، تاکہ وسیع تر تنازعہ کو بھڑکایا نہ جائے۔

ان میں ممکنہ طور پر ایرانی فوجی دستوں اور خطے میں تہران کی حمایت یافتہ پراکسیز کے خلاف حملے بھی شامل تھے۔

دریں اثنا گذشتہ چند دنوں کے دوران امریکی صدر جو بائیڈن اور دیگر رہ نماؤں نے تل ابیب پر زور دیا کہ وہ ایرانی حملے کا جواب دینے کے وعدے کے بعد تحمل کا مظاہرہ کرے۔

واشنگٹن اور پیرس نے اسرائیل کو مطلع کیا کہ وہ تہران کے خلاف اس کی کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے۔ امریکہ نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہ کرے اور ایرانی حملے کا جواب دینے سے گریز کرے۔

خیال رہے کہ ایران نے یکم اپریل کو دمشق میں اپنے سفارت خانے پراسرائیلی حملے میں پاسداران انقلاب کے اہم کمانڈروں کی ہلاکت کے واقعے کا بدلہ لیتے ہوئے گذشتہ ہفتے کے روز اسرائیل پر ڈرونز اور میزائلوں سے حملہ کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں