تونس:جنسی مسائل پرمبنی بچوں کی کتاب کی نمائش پر عوام سخت ناراض

عوام کی تنقید کےبعد کتاب کو نمائش سے ہٹا دیا گیا۔ یہ کتاب اقوام متحدہ کے پویلین پر مفت تقسیم کی جا رہی تھی۔ انتظامیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تونس میں بین الاقوامی کتاب میلے کے ایک پویلین میں بچوں کے لیے جنسی تعلیم کے حوالے سے ایک کتاب کی نمائش کے بعد تنقید کا ایک طوفان برپا ہو گیا۔ متنازعے کتاب کی نمائش میں شمولیت کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی اور اس نے کتاب کو نمائش سےاٹھا کر ضبط کرلیا ہے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد میں کتاب کی اشاعت بند کرنے اور کتاب شائع کرنے والے لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

کتاب کے متنازعے مواد کی وجہ سے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کتاب کی اشاعت ملک میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینے کی سوچی سمجھی کوشش ہے۔

شدید غم وغصہ

تونس کے عوامی حلقوں نے "سین اور جیم جنسانیہ "کے عنوان سے لکھی کتاب میں اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا، جس میں والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے جنسی تعلیم سے متعلق سوالات کے جوابات دینے میں ان کی مدد کریں۔

سماجی رابطوں کی سائٹس پراس کتاب کے خلاف شدید غم وغصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یہ کتاب تونس میں اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے پویلین میں تونس کی سوسائٹی برائے تولیدی صحت کے اشتراک سے پیش کی گئی تھی اور اسے مفت تقسیم کیا گیا تھا۔

تنقید کے تیروں کا رخ نہ صرف متنازعے کتاب کی طرف ہے بلکہ نمائش کی انتظامیہ پر بھی شدید برہمی کا اظہا کیا جا رہا ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ بچوں کو جنسی مسائل سے متعلق معلومات کی فراہمی ایک متنازعہ اور غیراخلاقی عمل ہے جس سے بچوں میں بے راہ روی اور ہم جنس پرستی کا رحجان زور پکڑ رہا ہے۔

تونسی پرچم
تونسی پرچم

کیا تونس کے بچوں کو اس کتاب کی ضرورت ہے؟

سماجی کارکن رجاء خمیری نے ’فیس بک‘ پر ایک تبصرے میں سوال کیا کہ کیا یہ کتاب میلہ ہے یا اخلاقی بدعنوانی کی نمائش آج تونس کے بچوں کی ضرورت ہے؟

دوسری طرف سماجی کارکن اسعد طاہری نے کہا کہ اس کتاب کا مقصد "بچوں کی برین واشنگ ہے"۔

بلاگر سیف عمار میدانی نے لوگوں کی ثقافت یا معاشرے کی روایات کے برعکس ہم جنس پرستی تعدد ازدواج کے متنازعے موضوعات پر کتاب پرنٹ کرانے اور اسے جمع کرانے پر اقوام متحدہ پر تنقید کی۔

دوسری جانب نمائش کی انتظامیہ نے اس تنازعہ پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ متنازعہ کتاب کو نمائش سے ہٹا دیا گیا ہے۔ نمائش کے ڈائریکٹر محمد صالح القادری نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ وہ اقوام متحدہ کے پویلین گئے اور اس کے نگرانوں سے تونس کے معاشرے کی روایات کو سامنے رکھتے ہوئے کتاب واپس لینے کو کہا۔

انہوں نے بتایا کہ نمائش بورڈ کو نمائش میں موجود مختلف عنوانات کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر کتابوں کے خلاصوں سے بھی آگاہ کیا گیا ہے تاہم مذکورہ کتاب فروخت کے لیے نہیں تھی بلکہ اقوام متحدہ کے پویلین کے انچارج حضرات نے مفت تقسیم کی تھی۔ .

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں