کولمبیا یونیورسٹی میں مظاہرین کی گرفتاریاں،امریکہ میں بھی شہری حقوق کی شکایات عروج پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

کولمبیا یونیورسٹی میں بیسیوں طلبہ کی گرفتاریوں نے امریکہ میں شہری حقوق کی شکایات سامنے آنے کا موقع کا ایک نیا پیدا کر دیا ہے۔ امریکہ کی بڑی یونیورسٹیوں میں سے ایک کولمبیا یونیورسٹی میں پچاس سال بعد ایک بار پھر طلبہ اور اساتذہ جنگ مخالف مطالبات کے ساتھ احتجاج کر رہے ہیں ۔ لیکن انتظامی عہدوں پر موجود حکام کو یہ قبول نہیں ہے۔

50 سال پہلے یہ مطالبات ویتنام میں امریکی جنگ کے خلاف سامنے آیا تھا۔ ان دنوں غزہ میں اسرائیلی جنگ میں امریکہ کی اندھا دھند فاجی و جنگی مدد کیے جانے کے خلاف یہ احتجاج جاری ہے۔

اس احتجاج کو روکنے کے لیے یونیورسٹی کی انتظامیہ نے پولیس فورس کا استعمال کیا ہے تاکہ طلبہ احتجاج کو طاقت کے ساتھ دبا یا جا سکے۔ اس دوران ایک سو سے زائد گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئیں۔

ان گرفتاریوں کے خلاف فلسطین لیگل آرگنائزیشن نے امریکی محکمہ تعلیم سے مطالبہ کیا ہے کہ ان اقدامات کی تحقیقات کرے۔ فلسطین لیگل آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی حمایت کرنے ولاے طلبہ و اساتذہ کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا گیا ہے۔ تاہم کولمبیا یونیورسٹی انتظامیہ نے اس واقعہ سے متعلق رابطہ کرنے پر کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

گزشتہ ہفتے صدر کولمیبیا یونیورسٹی منوشے شفیق نے نیو یارک سٹی پولیس کو یونیورسٹی میں داخل ہونے کی اجازت دی تھی۔ جس پر طلبہ، اساتذہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے غم و غصے کا اظہار کیا۔ کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے مظاہرے اب دیگر تعلیمی اداروں میں بھی شدت پکڑچکے ہیں۔
یہ ہزاروں امریکی طلبہ غزہ میں تقریبا سات ماہ سے جاری جنگ کے خلاف مطالبات کر رہے ہیں کہ غزہ میں فوری جنگ بندی کی جائے۔ خیال رہے اب تک اسرائیل کی فوج نے غزہ میں 34300 سے زائد فلسطینیوں کو قتل کر لیا ہے۔ ان میں دوتہائی کے اریب قتل ہونے والے فلسطینی بچے اور عورتیں ہیں۔ تاہم نسل کشی کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ اڈی وجہ سے امریکہ کے نوجوانوں میں اس کے خلاف غم و غصہ پایا جا تا ہے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں نے انریکہ میں بھی فلسطینیوں اور عربوں کے خلاف تعصب کی اس لہر میں شدت کو محسوس کیا ہے۔ اکتوبر 2023 میں ایک چھ سالہ فلسطینی بچے کو چھرا گھونپ کر قتل کرنے کے واقعے کے علاوہ ماہ نومبر کے دوران ورمونٹ میں تین فلسطینی طلبہ کے قتل کا واقعہ اور ماہ فروری کے دوران ٹیکساس میں ایک اور فلسطینی شہری کا چھرا گھونپنے سے قتل اس نفرت اور تعصب کے شاخسانے کی کڑیاں ہیں۔

تاہم امریکی جوبائیڈن انتظامیہ کی نگاہ دوسری جانب ہی زیادہ یے۔ امریکی وزیر تعلیم میگوئل کارڈونا نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ 'کیمپیس میں فلسطینیوں کے حق میں ہونے والے مظاہروں اور یہود دشمنی کے الزامات پر تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اسی ماہ کے آغاز میں کارنیل یونیورسٹی کے سابق طالب علم نے یہودی طلبہ کاو قتل کی دھمکیاں دینے کا اعتراف کیا ہے۔'


اس جنگ نے اسرائیل کے سب سے اہم اتحادی ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں شدید گفتگو کی ہے۔ وکالت گروپوں نے یہودیوں، عربوں اور فلسطینیوں کے خلاف نفرت اور تعصب میں اضافہ نوٹ کیا۔ خطرناک امریکی واقعات میں اکتوبر میں الی نوائے میں ایک 6 سالہ فلسطینی نژاد امریکی بچے کا چھرا گھونپنا، نومبر میں ورمونٹ میں فلسطینی نژاد تین طالب علموں کو گولی مار کر ہلاک کرنا اور فروری میں ٹیکساس میں ایک فلسطینی امریکی شخص کو چھرا گھونپنا شامل ہیں۔ امریکی وزیر تعلیم میگوئل کارڈونا نے جمعرات کو کہا کہ وہ کالج کیمپس میں سام دشمنی کے الزامات کی رپورٹس کی پیروی کر رہے ہیں۔ اس ماہ کے شروع میں، کارنیل یونیورسٹی کے ایک سابق طالب علم نے کیمپس میں یہودی طلباء کے خلاف آن لائن دھمکیاں، بشمول موت اور تشدد کی پوسٹ کرنے کا جرم قبول کیا۔

7 اکتوبر کو حماس کے عسکریت پسندوں کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ پر حملہ کیا، جس میں اسرائیلی قدامت کے مطابق 1,200 افراد ہلاک ہوئے۔ حماس کا کہنا ہے کہ اس کی مسلح سرگرمیاں اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت ہیں جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے بعد 7 اکتوبر سے اس کی کارروائیاں اپنے دفاع میں کی گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں