اسرائیل کا ترکیہ کے ساتھ فری ٹریڈ معاہدہ ختم کرنے کا عندیہ، منظوری کابینہ دے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل نے ترکیہ کی طرف سے محدود تجارتی قدغنوں کے پچھلے ماہ کیے گئے اعلان کے خلاف اپنا سخت ردعمل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خزانہ بزالیل سموٹریچ نے اعلان کیا ہے اسرائیل ترکیہ پر اپنا تجارتی انحصار کرے گا اس سلسلے میں ترکیہ سے آنے والی اہم تر اشیا پر سو فیصد ٹیرف کی پالیسی متعارف کرائی جائے گی۔

اسرائیلی وزیر خزانہ نے اس بارے میں عندیہ دیا ہے کہ اسرائیل ترکیہ کے ساتھ اپنے فری ٹریڈ معاہدے کو ختم کرے گا۔ تاہم اس کے لیے یہ معاملہ اسرائیلی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا جو حتمی فیصلہ کرے گی۔

واضح رہے اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان طویل عرصے سے سفارتی تعلقات موجود ہیں۔ تاہم اس دوران سفارتی تعلقات کے باوجود فلسطینی ریاست کے مستقبل اور فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیلی سلوک کے حوالے سے تعلاقات میں اتار چڑھاؤ آتا رہا یے۔ اس اتار چڑھاؤ کے باوجود کبھی بھی دو طرفہ تجارت کے حوالے سے کوئی تعطل پیدا نہیں ہو نے دیا گیا۔

لیکن سات اکتوبر 2023 سے جاری غزہ میں اسرائیلی جنگ کے سبب اپریل 2024 میں ترکیہ نے اسرائیل کے ساتھ بعض تجارتی آئٹمز کی ترسیل پر قدغنیں عائد کر دیں۔ یہ فیصلہ اگرچہ کافی تاخیر سے اور محدود 54 آئٹمز کی حد تک ہے۔ تاہم اس نوعیت کا فیصلہ ترکیہ نے پہلی بارکیاہے۔

ماہرین کے لئے یہ حیران کن معاملہ ہے۔ اس سے پہلے جب بھی تعلقات پر مسئلہ فلسطین کے سبب جب بھی کوئی تنازعہ یا رخنہ آیا تو دونوں ملکوں نے تجارت کو سیاست اور سفارت سے الگ رکھاگیا۔ لیکن اس بار جنگ کے ساتویں مہینے پر ہی سہی بالآخرملک ترکیہ کا صبر جواب دے گیاتھا۔

اس سے ہہلے ماہ مارچ کے اواخر میں ترکیہ میں بلدیاتی مہم چلی تو اس وقت بھی عوامی جلسوں میں اسرائیل کے خلاف منفی
مہم چلائی گئی اور عوام کو اسرائیل کے خلاف بھڑکایا گیا۔ اسی نے اسرائیل اور اس کے وزیر خزانہ کو ترکیہ کے خلاف سخت جوابی اقدام پر مجبور کیا ہے۔

اسرائیل کے اس بارے میں غصے کی ایک وجہ یہ بھی بنی ہے کہ ماضی میں کبھی ترکیہ نے ایسا نہیں کیا تھا ۔حتی کہ 2010 اور 2020 کے خراب ترین حالات میں بھی بات یہاں تک نہیں پہنچی تھے۔لیکن اب ایسا ہو گیا۔

اسرائیلی ذرائع کے مطابق یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے یہ پابندی صدر ترکیہ طیب ایردوآن کے ساتھ منسلک کی جائے کہ جب تک وہ عہدے پر موجود ہیں ترکیہ سے تجارتی معاملات کو روکے رکھا جائے۔ تاہم جو بھی فیصلہ ہو گا یہ اسرائیلی کابینہ میں ہی کیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں